وزیراعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے کرناٹک کے تمام ارکانِ پارلیمنٹ کا اعلیٰ سطحی اجلاس طلب کر لیا
بنگلورو 26 جولائی ( ایجنسی)پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے آغاز کے ساتھ ہی کرناٹک حکومت نے ریاست سے متعلق اہم ترقیاتی منصوبوں اور زیرِ التوا تجاویز کو مرکزی حکومت کے سامنے مؤثر انداز میں پیش کرنے کی تیاری شروع کر دی ہے۔ اسی سلسلے میں وزیراعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے کرناٹک کے تمام لوک سبھا اور راجیہ سبھا ارکانِ پارلیمنٹ کا ایک اعلیٰ سطحی اجلاس طلب کیا ہے، جو 27 جولائی کو شام 6:30 بجے کرناٹک بھون-1 (کاویری)، نئی دہلی میں منعقد ہوگا۔
وزیراعلیٰ کی جانب سے تمام ارکانِ پارلیمنٹ کو ارسال کیے گئے خط میں اجلاس میں شرکت کی درخواست کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے موقع پر ریاست سے متعلق زیرِ التوا منصوبوں، ترقیاتی تجاویز اور مرکزی حکومت سے درکار تعاون کے حصول کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔
خط میں کہا گیا ہے کہ اجلاس کا مقصد ریاست کے تمام لوک سبھا اور راجیہ سبھا ارکانِ پارلیمنٹ کی آرا، تجاویز اور رہنمائی حاصل کرنا ہے تاکہ کرناٹک کی ہمہ جہت ترقی کے لیے مرکز کے ساتھ مؤثر رابطہ اور تعاون کو یقینی بنایا جا سکے۔
دریں اثنا وزیراعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے حال ہی میں صنعتی شعبے کے نمائندوں سے بھی اپیل کی تھی کہ وہ کرناٹک حکومت کے ساتھ شراکت داری کرتے ہوئے ریاست کی ترقی کے اگلے مرحلے میں فعال کردار ادا کریں۔ انہوں نے بنگلورو سے باہر عالمی معیار کے بنیادی ڈھانچے کی توسیع، صنعت کے اشتراک سے مصنوعی ذہانت (AI) یونیورسٹی کے قیام اور ٹیکنالوجی کے شعبے کو مزید مستحکم بنانے کے لیے نئی پالیسیوں کا بھی اعلان کیا تھا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا تھا کہ بنگلورو کی اصل طاقت اس کی باصلاحیت افرادی قوت اور اختراعی ٹیکنالوجی کا مضبوط ماحولیاتی نظام ہے، جبکہ شہر کو ہندوستان کی ٹیکنالوجی راجدھانی بنانے کا سہرا ان افراد اور کمپنیوں کو جاتا ہے جنہوں نے مسلسل جدت اور سرمایہ کاری کے ذریعے اس مقام تک پہنچایا۔
انہوں نے کرناٹک کی معاشی کارکردگی کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ریاست سے سافٹ ویئر برآمدات 43 لاکھ کروڑ روپے سے تجاوز کر چکی ہیں اور توقع ہے کہ رواں سال یہ 55 لاکھ کروڑ روپے سے بھی زیادہ ہو جائیں گی۔







0 تبصرے