چیف منسٹر ریونت ریڈی کے دو مقامات پر ووٹ رہنے کا تنازعہ ،الیکشن کمیشن کی وضاحت
حیدرآباد19 جولائی (ناز میڈیا ) چیف منسٹر تلنگانہ اے ریونت ریڈی کے دو الگ الگ مقامات پر ووٹ کا حق رکھنے کے دیرینہ تنازعے پر سنٹرل الیکشن کی جانب سے ایک اہم وضاحت سامنے آئی ہے۔ نئی دہلی میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے واضح کیا ہیکہ ریاست میں جاری ووٹر لسٹوں کی خصوصی جامع نظرثانی مہم مکمل ہونے کے بعد چیف منسٹر ریونت ریڈی دوجگہوں پر ووٹ دینے کے اہل نہیں رہیں گے اور یہ مسئلہ ہمیشہ کیلئے حل ہوجائے گا۔ میڈیا کے نمائندوں نے جب گیانیش کمار سے تلنگانہ کے چیف منسٹر کے دو مقامات پر ووٹنگ کا حق رکھنے سے متعلق سوال پوچھا تو انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ فی الوقت جاری (SIR) مہم اس قسم کی خامیوں کو دور کرنے کیلئے چلائی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس جامع مہم کے اختتام کے بعد کسی بھی شہری یا وی آئی پی کیلئے دو مقامات پر ووٹ کا اندراج برقرار رکھنا ممکن نہیں ہوگا۔ اب اس معاملے پر کسی پریشانی کی گنجائش نہیں رہے گی۔ پریس کانفرنس کے دوران چیف الیکشن کمشنر نے تلنگانہ کانگریس کی قومی انچارج میناکشی نٹراجن کے راجیہ سبھا پرچہ نامزدگی مسترد ہونے کے حساس مسئلہ پر بھی ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انتخابات کے دوران نامزدگی کے تمام کالمس اور کاغذات کو مکمل طور پر بھرنا لازمی اصول ہے۔ بعض اوقات انتخابی عہدیداروں سے بھی چوک ہوجاتی ہے لیکن سیاسی مخالفین ان باریکیوں پر نظر رکھتے ہیں اور اعتراض کرتے ہیں اگر مخالفین اس خامی کی نشاندہی کرکے شکایت درج نہ کرواتے تو شاید صورتحال مختلف ہوتی۔ انہوں نے سنسنی خیز انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ میناکشی نٹراجن کو ان کے خلاف جاری عدالتی کیس کی مکمل تفصیلات فراہم کرنے کیلئے باقاعدہ اضافی وقت دیا گیا تھا لیکن انہوں نے اس مہلت کا فائدہ نہیں اٹھایا اور دستاویزات جمع نہیں کرائے۔ گیانیش کمار نے انتخابی قوانین کی وضاحت کرتے ہوئے یاد دلایا کہ ایک بار جب ریٹرننگ آفیسر پرچہ نامزدگی کی جانچ کے بعد کوئی فیصلہ لے لیتا ہے تو اس میں سنٹرل الیکشن کمیشن کے دائرہ کار میں بھی کچھ نہیں رہتا یہی وجہ ہیکہ میناکشی نٹراجن اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ تک گئی لیکن عدالت نے بھی ریٹنگ آفیسر کے فیصلے کو برقرار رکھا۔







0 تبصرے