کرناٹک کے وزیراعلیٰ سدارمیا کو کیا گیا دہلی طلب، کیا ڈی کے شیوکمار بنیں گے کرناٹک کے اگلے وزیر اعلیٰ؟
کیرل اسمبلی انتخابات میں ملی شاندار کامیابی اور تمل ناڈو میں اتحادی حکومت بنانے کے بعد کانگریس ہائی کمان کا اعتماد بڑھا ہوا ہے اور اب اس کی نظریں کرناٹک کی داخلی سیاست پر ہیں۔ اسی دوران وزیر اعلیٰ سدارمیا کو دہلی طلب کیے جانے کے بعد اقتدار کی تبدیلی سے متعلق چہ مگوئیاں مزید تیز ہو گئی ہیں۔ مانا جا رہا ہے کہ راہل گاندھی اور کانگریس قیادت کے ساتھ ہونے والی میٹنگ میں کافی عرصے سے زیر بحث پاور شیئرنگ فارمولے پر بڑا فیصلہ ہو سکتا ہے۔ دراصل کانگریس حکومت کے تین سال مکمل ہونے کے بعد نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار کے حامیوں نے انہیں وزیر اعلیٰ بنانے کی مہم تیز کر دی ہے۔ ایسے میں سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا اب کانگریس ہائی کمان کرناٹک میں قیادت کی تبدیلی کی راہ ہموار کرنے جا رہی ہے؟ ذرائع کے مطابق دہلی میں ہونے والی میٹنگ میں کرناٹک حکومت سے متعلق کئی معاملات پر گفتگو ہو سکتی ہے۔ ان میں ممکنہ کابینہ رد و بدل اور سدارمیا و شیوکمار گروپوں کے درمیان جاری رسہ کشی بھی شامل ہے۔ سدارامیا نے پہلے کہا تھا کہ وہ تبھی دہلی جائیں گے جب پارٹی ہائی کمان انہیں طلب کرے گی۔ اب ان کے دہلی دورے کو لے کر سیاسی حلقوں میں مختلف قسم کی بحث شروع ہو گئی ہے۔ دوسری جانب، ڈی کے شیوکمار نے حال ہی میں کہا تھا کہ وہ اور سدارمیا دونوں کانگریس قیادت کے فیصلے پر عمل کریں گے۔ تاہم ان کے حامیوں کی سرگرمیوں نے ریاستی سیاست میں ہلچل بڑھا دی ہے۔ حالیہ دنوں میں شیوکمار کے حامیوں نے کھلے عام انہیں اگلا وزیر اعلیٰ قرار دینا شروع کر دیا ہے۔ میسور میں ان کی سالگرہ کی تقریب کے دوران Next CM DK Bossلکھے ہوئے کیک نے واضح سیاسی پیغام دے دیا۔ اس کے علاوہ بنگلورو، بیلگاوی اور کرناٹک کے کئی دیگر علاقوں میں شیوکمار کی حمایت میں بڑے بڑے پوسٹرز اور کٹ آؤٹس لگائے گئے۔ ان پر CM DKS جیسے نعرے درج تھے۔ اگرچہ کانگریس کی جانب سے اسے حامیوں کے جذبات قرار دیا گیا لیکن اس سے اس پرانے اقتدار کی شراکت کے فارمولے پر بحث دوبارہ شروع ہو گئی، جس کا ذکر 2023 میں کانگریس کی اقتدار میں واپسی کے وقت سے ہوتا رہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ حکومت کی تشکیل کے دوران سدارمیا اور شیوکمار کے درمیان وزیر اعلیٰ کے عہدے کو لے کر مفاہمت کی بات چیت ہوئی تھی۔ تاہم پارٹی نے کبھی بھی باضابطہ طور پر کسی "ڈھائی ڈھائی سال" کے فارمولے کی تصدیق نہیں کی۔ اب جبکہ حکومت نے تین سال مکمل کر لیے ہیں، شیوکمار کے حامی ایک بار پھر سرگرم ہو گئے ہیں۔ ایسے میں سدارمیا کو دہلی طلب کیا جانا کرناٹک کانگریس کی اندرونی سیاست کے تناظر میں نہایت اہم سمجھا جا رہا ہے۔ فی الحال کانگریس قیادت کی جانب سے کسی بڑی تبدیلی پر باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا، لیکن دہلی میں ہونے والی اس میٹنگ پر پوری ریاست کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔








0 تبصرے