حضرت بابا تاج الدینؒ کے 104ویں سالانہ عرس کی روح پرور تقریبات جاری، تاج باغ میں عقیدت مندوں کا جمِ غفیر
ناگپور 13 جولائی (ناز میڈیا ) مہاراشٹر کے شہر ناگپور کے تاریخی تاج باغ میں حضرت بابا تاج الدین رحمتہ اللہ علیہ کے 104ویں سالانہ عرس کی روح پرور تقریبات عقیدت و احترام کے ساتھ جاری ہیں۔ 8 جولائی سے شروع ہونے والا عرس 19 جولائی تک جاری رہے گا، جس میں ملک و بیرونِ ملک سے لاکھوں زائرین درگاہ پر حاضری دے کر فاتحہ خوانی، دعا، میلاد شریف، محافلِ قوالی اور دیگر مذہبی تقریبات میں شرکت کر رہے ہیں۔
تاج الدین بابا ٹرسٹ کے زیرِ اہتمام منعقد ہونے والے بارہ روزہ عرس میں روزانہ میلاد شریف، محفلِ ذکر، نعت و منقبت، صلوٰۃ و سلام، دعائیہ اجتماعات اور محافلِ قوالی کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ عرس کی اہم تقریبات میں شاہی صندل جلوس بھی شامل ہے، جو 12 جولائی کو روایتی عقیدت کے ساتھ نکالا گیا۔
حضرت بابا تاج الدینؒ، جن کا اصل نام سید تاج الدین محمد بدرالدین تھا، 27 جنوری 1861 کو کامٹھی (ناگپور) میں ایک سادات خاندان میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم کے بعد انہوں نے برطانوی ہندوستانی فوج کی 13ویں ناگپور رجمنٹ میں خدمات انجام دیں، تاہم بعد میں دنیاوی زندگی ترک کر کے عبادت و ریاضت کا راستہ اختیار کیا اور برصغیر کے ممتاز صوفی بزرگوں میں شمار ہونے لگے۔
تاریخی روایات کے مطابق بھونسلے شاہی خاندان حضرت بابا تاج الدینؒ سے گہری عقیدت رکھتا ہے۔ روایت ہے کہ شاہی خاندان کی ایک اہم مشکل حضرت بابا کی دعا سے حل ہوئی، جس کے بعد راجہ راگھو جی راؤ بھونسلے نے انہیں شاہی محل میں قیام کی دعوت دی، جہاں وہ 1908 سے 1925 میں اپنے وصال تک مقیم رہے۔
عرس کی سب سے نمایاں روایت پرچم کشائی کی تقریب ہے، جو گزشتہ ایک صدی سے بھونسلے شاہی خاندان کے افراد کے ہاتھوں انجام دی جا رہی ہے۔ اس سال 104ویں عرس کے موقع پر شریمنت پنچم راجے راگھو جی بھونسلے نے سجادہ نشین سید یوسف اقبال تاجی اور امیرِ شریعت مفتی صاحب کی موجودگی میں درگاہ کا پرچم لہرایا، جو مذہبی ہم آہنگی کی ایک خوبصورت مثال سمجھی جاتی ہے۔
درگاہ کا انتظام سنبھالنے والا تاج الدین بابا ٹرسٹ بھی بین المذاہب اتحاد کی بہترین مثال پیش کرتا ہے۔ ٹرسٹ میں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد خدمات انجام دے رہے ہیں، جبکہ موروثی خدام بھی نسل در نسل درگاہ کی خدمت میں مصروف ہیں۔
ہر سال کی طرح اس مرتبہ بھی شاہی صندل جلوس، لنگر اور دیگر تقریبات میں ہندو، مسلمان، سکھ، عیسائی اور پارسی برادری کے افراد بڑی تعداد میں شریک ہو رہے ہیں۔ لنگر میں مذہب و ملت کی تفریق کے بغیر تمام زائرین کی خدمت کی جا رہی ہے۔
حضرت بابا تاج الدینؒ کی تعلیمات محبت، اخوت، امن، رواداری اور انسانیت کے احترام پر مبنی تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے وصال کے ایک صدی بعد بھی تاج باغ کا عرس ملک میں مذہبی ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کی روشن علامت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔








0 تبصرے