بیدر میں کانگریس کارکنوں کا عظیم الشان اجلاس پانچ گارنٹی اسکیمیں پورے ملک کے لیے مثالی، 2028 میں دوبارہ کانگریس کی حکومت بنے گی: ڈی کے شیوکمار
بیدر، 7 جولائی (محمد علیم الدین) کرناٹک کے نائب وزیر اعلیٰ اور ریاستی کانگریس صدر ڈی کے شیوکمار نے کہا ہے کہ کانگریس کی قیادت والی ریاستی حکومت کی پانچ گارنٹی اسکیمیں آج پورے ملک کے لیے ایک مثالی نمونہ بن چکی ہیں۔ بی جے پی سمیت مختلف سیاسی جماعتیں بھی دیگر ریاستوں میں انہی گارنٹی اسکیموں کو نافذ کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ سمیت کئی قومی و بین الاقوامی اداروں نے ان اسکیموں کو سراہا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ کانگریس حکومت نے عوام سے کیے گئے وعدے عملی طور پر پورے کیے ہیں۔وہ پیر کی شام بیدر شہر کے گنیش میدان میں منعقدہ کانگریس کارکنوں کے عظیم الشان اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔
ڈی کے شیوکمار نے کہا کہ ریاست میں پانچوں گارنٹی اسکیموں کی کامیابی کا اصل سہرا کانگریس کارکنوں کی محنت اور جدوجہد کو جاتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وزیر اعلیٰ سدارامیا کی قیادت میں نافذ تمام عوامی فلاحی منصوبے بدستور جاری رہیں گے اور پانچوں گارنٹی اسکیموں کو کسی بھی صورت بند نہیں کیا جائے گا۔انہوں نے مرکزی حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے اقتدار میں آنے سے قبل ہر شہری کے بینک کھاتے میں 15 لاکھ روپے جمع کرانے کا وعدہ کیا تھا، لیکن آج تک یہ وعدہ پورا نہیں ہوا۔ انہوں نے کارکنوں سے کہا کہ وہ عوام کے درمیان جا کر بی جے پی سے اس وعدہ خلافی کا جواب طلب کریں۔
ڈی کے شیوکمار نے کہا کہ وہ خود ایک عام کارکن اور طلبہ رہنما کی حیثیت سے سیاست میں آئے ہیں، اس لیے ہر گرام پنچایت میں چھ رکنی گارنٹی عمل درآمد کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی تاکہ حکومت کی فلاحی اسکیموں کا فائدہ ہر مستحق شخص تک پہنچ سکے۔ انہوں نے کہا کہ گارنٹی اسکیموں کا دوبارہ جائزہ لے کر اہل مستحقین تک ان کے فوائد یقینی بنائے جائیں گے۔انہوں نے ووٹر لسٹ کی خصوصی نظرثانی (SIR) کے حوالے سے کہا کہ ہر شہری اپنے ووٹ کے حق کا تحفظ کرے، بی ایل او کی جانب سے دیے گئے فارم ضرور جمع کرائے اور کانگریس کے بوتھ سطح کے کارکن عوام کی رہنمائی کریں تاکہ کسی اہل ووٹر کا نام فہرست سے خارج نہ ہو۔انہوں نے کہا کہ کانگریس نے کارکنوں کی محنت سے 136 اسمبلی نشستیں جیت کر حکومت بنائی ہے۔ اگر کارکن اسی جذبے سے کام کرتے رہے تو 2028 میں ایک بار پھر کانگریس کی حکومت قائم ہوگی۔ڈی کے شیوکمار نے کہا کہ ماں کی یاد محبت کی بنیاد، استاد کی یاد علم کی بنیاد اور خدا کی یاد عبادت کی بنیاد ہے، جبکہ انسانیت ان سب کی روح ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ حکومت کی فلاحی اسکیموں سے فائدہ اٹھانے کے ساتھ انسانیت اور شکرگزاری کو بھی ہمیشہ مقدم رکھیں۔انہوں نے کہا کہ نوجوانوں میں کھیل، ثقافت، بھائی چارے اور آئینی اقدار کے فروغ کے لیے بھارت جوڑو یوتھ سنگھ قائم کیا جائے گا۔ آئندہ تین سے چار ماہ میں 72 ہزار سرکاری آسامیوں پر تقرریاں ہوں گی، ای-کھاتہ کے ذریعے رشوت سے پاک خدمات فراہم کی جائیں گی اور پانچ ماہ کے اندر مقامی اداروں کے انتخابات بھی کرائے جائیں گے۔
اس موقع پر سابق وزیر اور بیدر کے رکنِ اسمبلی رحیم خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی اور جے ڈی ایس ذات پات کے نام پر نفرت پھیلانے اور عظیم سماجی مصلح بسونّا کے نام کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، لیکن کانگریس ایسی منفی سیاست کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دے گی۔ انہوں نے کہا کہ بسونّا نے پوری زندگی سماجی انصاف، مساوات اور بھائی چارے کے لیے جدوجہد کی، مگر آج بعض سیاسی جماعتیں واٹس ایپ اور فیس بک جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے ذات پات کی بنیاد پر نفرت پھیلا کر ان کے نظریات کو مسخ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ رحیم خان نے بیدر کے عوام سے اپیل کی کہ وہ بسونّا کے مساوات، اخوت اور سماجی انصاف کے پیغام پر عمل کریں، نفرت کی سیاست کو مسترد کریں اور کانگریس کے عوامی خدمت کے مشن کو مزید مضبوط بنائیں۔ریاستی وزیر ایشور کھنڈرے نے اپنے خطاب میں کہا کہ بیدر ضلع میں بارش کی شدید کمی کے باعث خریف کی فصل متاثر ہوئی ہے، اس لیے ضلع کو فوری طور پر خشک سالی سے متاثرہ قرار دے کر کسانوں کو مناسب امداد فراہم کی جائے۔ انہوں نے آبپاشی منصوبوں، کرنجہ متاثرین کی بازآبادکاری، بیدر کو سیاحتی مرکز کے طور پر ترقی دینے اور ضلع کو پسماندہ اضلاع کی فہرست سے نکالنے کا مطالبہ بھی کیا۔انہوں نے الزام لگایا کہ ووٹر لسٹ کی خصوصی نظرثانی کے نام پر بی جے پی غریبوں اور اقلیتوں کے نام ووٹر فہرست سے حذف کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے کارکنوں سے کہا کہ ہر اہل ووٹر کا نام برقرار رکھنے کے لیے بھرپور جدوجہد کریں۔
اجلاس میں نائب وزیر اعلیٰ ڈاکٹر جی۔ پرمیشور، وزیر ایشور کھنڈرے، سابق وزیر راج شیکھر پاٹل، رکنِ پارلیمنٹ ساگر کھنڈرے، ارکانِ قانون ساز کونسل چندر شیکھر پاٹل اور بھیم راؤ پاٹل، سابق ایم ایل سی اروند کمار ارلی، کے پنڈلیکا راؤ، وجئے سنگھ، ضلع کانگریس کمیٹی کے صدر بسواراج جابا شیٹی، امرت راؤ چمکوڑے، بھیم سین راؤ سندھے، سنجے جاگیردار سمیت پارٹی کے متعدد قائدین، عوامی نمائندوں اور ہزاروں کارکنوں نے شرکت کی۔












0 تبصرے