کرناٹک میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حالت ٹوکری میں پھنسے کیکڑوں جیسی، ایک دوسرے کو نیچے کھینچ رہے ہیں: سدارمیا

کرناٹک میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حالت ٹوکری میں پھنسے کیکڑوں جیسی، ایک دوسرے کو نیچے کھینچ رہے ہیں: سدارمیا


بنگلورو، 12 مئی( نامہ نگار ) کرناٹک کے وزیر اعلیٰ سدارمیا نے وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے کانگریس پر کی گئی تنقید کا سخت جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ کرناٹک میں بھارتیہ جنتا پارٹی خود شدید اندرونی اختلافات اور ’’سیاسی خودکشی‘‘ کا شکار ہے۔ انھوں نے پارٹی کی موجودہ صورتحال کو ٹوکری میں پھنسے ان کیکڑوں سے تشبیہ دی جو ایک دوسرے کو نیچے کھینچتے رہتے ہیں۔

وزیر اعلیٰ سدارمیا نے اپنے بیان میں کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کو کانگریس حکومت پر تنقید کرنے سے پہلے اپنی جماعت کی حالت پر غور کرنا چاہیے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ کرناٹک میں بھارتیہ جنتا پارٹی کئی گروہوں میں تقسیم ہو چکی ہے اور جماعت کے اندر اختلافات مسلسل بڑھتے جا رہے ہیں۔

سدارمیا نے کہا کہ ’’کرناٹک میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حالت ایسی ہو گئی ہے جیسے ٹوکری میں بند کیکڑے ایک دوسرے کو اوپر آنے نہیں دیتے۔ پارٹی کے رہنما ایک دوسرے کو نیچے کھینچنے میں مصروف ہیں اور اسی وجہ سے جماعت اپنی سیاسی خودکشی کر رہی ہے۔‘‘

انھوں نے مزید کہا کہ جماعت کے اندر کئی گروہ سرگرم ہیں جو سابق وزیر اعلیٰ بی ایس یدی یورپا اور ان کے خاندان کی مخالفت کر رہے ہیں۔ اس اندرونی کشمکش نے بھارتیہ جنتا پارٹی کو کمزور کر دیا ہے اور جماعت عوامی مسائل سے دور ہو چکی ہے۔

وزیر اعلیٰ نے طنزیہ انداز میں کہا کہ جماعت کی حالت اب اس قدر خراب ہو چکی ہے کہ وہ انہی رہنماؤں کے سامنے جھکنے پر مجبور ہو گئی ہے جنھیں پہلے معطل یا نظرانداز کیا گیا تھا۔ اب انہی افراد کو دوبارہ انتخابی مہم کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

سدارمیا نے وزیر اعظم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’’پہلے اپنے بوسیدہ سیاسی گھر کو سنبھالیے، اس کے بعد کانگریس پر انگلی اٹھائیے۔‘‘

واضح رہے کہ اتوار کے روز بنگلورو میں ایک عوامی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے کانگریس پر کرناٹک میں اقتدار کی اندرونی لڑائی میں مصروف رہنے کا الزام عائد کیا تھا۔ انھوں نے کہا تھا کہ کانگریس کی اندرونی رسہ کشی کے سبب ریاست کے عوام کو بہتر حکمرانی نہیں مل پا رہی ہے۔ وزیر اعظم نے کانگریس کو ’’طفیلی جماعت‘‘ بھی قرار دیا تھا۔

وزیر اعظم کے ان بیانات کے جواب میں سدارمیا نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ’’ایکس‘‘ پر بھی سخت ردعمل ظاہر کیا۔ انھوں نے سوال اٹھایا کہ نریندر مودی کی بنگلورو تقریر آیا ملک کے وزیر اعظم کی حیثیت سے تھی یا پھر بھارتیہ جنتا پارٹی کے ریاستی رہنما اور قائدِ حزبِ اختلاف کے کردار میں تھی۔ انھوں نے کہا کہ اس تعلق سے عوام کے ذہنوں میں پیدا ہونے والی الجھن کو وزیر اعظم کو خود دور کرنا چاہیے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق کرناٹک میں کانگریس اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے درمیان لفظی جنگ دن بہ دن شدت اختیار کرتی جا رہی ہے اور آنے والے دنوں میں ریاست کی سیاست مزید گرم ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

NEWS & ADVERTISMENT CONTACT     9880736910

NEWS & ADVERTISMENT CONTACT     9880736910

NEWS & ADVERTISMENT CONTACT                         9880736910

NEWS & ADVERTISMENT CONTACT                         9880736910
SAFA HOSPITAL BIDAR


NEWS & ADVERTISMENT CONTACT                           9880736910


NEWS & ADVERTISMENT CONTACT 9880736910


NEWS & ADVERTISMENT CONTACT     9880736910



ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے