مادری زبان میں تعلیم کا حق نہ چھینا جائے، مراٹھی اور اردو اساتذہ کی بھرتی کا مطالبہ
بیدر17 اگست (نامہ نگار )ریاستی حکومت کی جانب سے 15 ہزار اساتذہ کی بھرتی کے لیے اعلامیہ جاری کیے جانے کے پیشِ نظر مائنارٹی ریفارمز فورم (MRF) نے مطالبہ کیا ہے کہ بیدر ضلع میں مراٹھی، اردو سمیت تمام زبانوں کے سرکاری و منظور شدہ اسکولوں میں موجود خالی اور منظور شدہ اسامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے ضروری عہدوں کے لیے ضمنی اعلامیہ جاری کیا جائے۔اس مطالبے کو لے کر ایم آر ایف کے صدر ڈاکٹر مقصود چندا کی قیادت میں شہر کے امبیڈکر چوک سے احتجاجی ریلی نکالی گئی۔
مظاہرین ڈی ڈی پی آئی اور ڈپٹی کمشنر کے دفتر پہنچے، جہاں متعلقہ حکام کو یادداشت پیش کی گئی۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر مقصود چندا نے کہا کہ جو حکومت تعلیم کے حق اور مساوات کے حق کی بات کرتی ہے، وہ مراٹھی اور اردو میڈیم کے اہل اساتذہ امیدواروں کے ساتھ ناانصافی کیسے کرسکتی ہے؟ انہوں نے مطالبہ کیا کہ موجودہ اساتذہ کی بھرتی کے عمل پر نظرثانی کرتے ہوئے مراٹھی اور اردو میڈیم کے اہل امیدواروں کو بھی بھرتی کے عمل میں شامل کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ بیدر ضلع ایک سرحدی علاقہ ہے اور نظام دور سے ہی یہاں اردو میڈیم کے کئی تعلیمی ادارے کام کر رہے ہیں۔ مہاراشٹر کی سرحد سے متصل ہونے کی وجہ سے ضلع کے مختلف علاقوں میں مراٹھی میڈیم کے اسکول بھی موجود ہیں۔ ان اسکولوں میں اساتذہ کی کمی ہے، جبکہ اہل امیدوار گزشتہ کئی برسوں سے تقرری کے منتظر ہیں۔ڈاکٹر مقصود چندا نے کہا کہ 15 ہزار اساتذہ کی بھرتی کا اعلامیہ جاری ہونے سے امیدواروں میں امید پیدا ہوئی ہے، لیکن اگر مراٹھی اور اردو میڈیم کو بھرتی کے عمل سے باہر رکھا گیا تو انہیں آئندہ موقع کب ملے گا، یہ واضح نہیں ہے۔ کئی امیدواروں نے برسوں تعلیم حاصل کرنے کے بعد ٹی ای ٹی سمیت دیگر ضروری اہلیتیں حاصل کی ہیں اور ملازمت کے منتظر ہیں۔ مزید تاخیر کی صورت میں کئی امیدوار عمر کی حد پار کر سکتے ہیں اور مستقل طور پر ملازمت کے مواقع سے محروم ہونے کا خدشہ ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ “ہمیں کنڑ یا انگریزی میڈیم کے اساتذہ کی بھرتی پر کوئی اعتراض نہیں ہے، لیکن مراٹھی اور اردو میڈیم کے اہل امیدواروں کو بھی مساوی طور پر موقع دیا جائے۔ موجودہ بھرتی کے اعلامیے میں ترمیم کرتے ہوئے مراٹھی اور اردو میڈیم کی ضروری اسامیوں کو شامل کرکے ضمنی اعلامیہ جاری کیا جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ ضلع میں آج بھی مختلف زبانوں کے میڈیم کے اسکول چل رہے ہیں۔ ان اسکولوں کے طلبہ کو اپنی مادری زبان میں معیاری تعلیم فراہم کرنے کے لیے ضروری اساتذہ کی تقرری کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ صرف طلبہ کی تعداد کم ہونے کی بنیاد پر پہلے سے موجود اسکولوں کو نظرانداز کرنا مناسب نہیں ہے۔مظاہرین نے سوال کیا کہ اگر حکومت کے مطابق اسکولوں میں اساتذہ کی کمی نہیں ہے تو پھر مہمان اساتذہ کی تقرری کرکے انہیں تنخواہیں کیوں ادا کی جارہی ہیں؟ اگر اساتذہ کی اسامیوں کی ضرورت نہیں ہے تو مہمان اساتذہ کی تقرری کی ضرورت ہی کیوں پیش آتی ہے؟ انہوں نے کہا کہ اساتذہ کی کمی کے باعث طلبہ کی تعلیم متاثر نہیں ہونی چاہیے۔مظاہرین نے کہا کہ بچوں کے تعلیمی اور ذہنی فروغ کے لیے ابتدائی تعلیم مادری زبان میں حاصل کرنا انتہائی اہم ہے۔ لہٰذا مراٹھی، اردو سمیت تمام زبانوں کے میڈیم کے اسکولوں میں ضرورت کے مطابق تمام مضامین کے اساتذہ مقرر کیے جائیں اور اہل امیدواروں کو ملازمت کے مواقع فراہم کیے جائیں۔انہوں نے حکومت اور محکمۂ تعلیم سے مطالبہ کیا کہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے فوری اقدامات کیے جائیں، بصورتِ دیگر اساتذہ امیدواروں کے حقوق کے لیے قانونی جدوجہد شروع کی جائے گی۔مظاہرین نے کہا کہ انہوں نے اپنے حقوق کے لیے پُرامن اور جمہوری طریقے سے احتجاج کرتے ہوئے یادداشت پیش کی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ اساتذہ کے مستقبل کے ساتھ ساتھ طلبہ کے تعلیمی مستقبل کے تحفظ کے لیے فوری کارروائی کرے۔اس احتجاج میں ایم ڈی شکیل احمد ، ایم ڈی مبشر شندے، سید منصور احمد قادری ، انصار اللہ بیگ، محمد یوسف رحیم بدری، ایم ڈی امین نواز، سجاد صاحب، شیخ مسیع الدین، ایم ڈی سامی، ایم ڈی سلطان اور خلیل خان سمیت اردو و مراٹھی اساتذہ اور دیگر افراد نے شرکت کی۔.








0 تبصرے