بھارت رتن ڈاکٹر بی۔ آر۔ امبیڈکر مطالعہ پروگرام کا انعقاد ہاتھ میں کتاب ہو، زندگی میں علم ہو: سدّرام سندھے

بھارت رتن ڈاکٹر بی۔ آر۔ امبیڈکر مطالعہ پروگرام کا انعقاد ہاتھ میں کتاب ہو، زندگی میں علم ہو: سدّرام سندھے


بیدر، 22 اگست( نامہ نگار ) ہم سب کو بھارت رتن ڈاکٹر بی۔ آر۔ امبیڈکر کے افکار، نظریات اور اصولوں کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا چاہیے۔ یہ بات محکمۂ کنڑ و ثقافت کے معاون ناظم سدّرام سندھے نے کہی۔

طلبہ میں ڈاکٹر بی۔ آر۔ امبیڈکر کی حیات، خدمات، جدوجہد اور تحریروں کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے کے مقصد سے محکمۂ کنڑ و ثقافت، بیدر اور مورار جی دیسائی رہائشی اسکول، بگدل کے اشتراک سے مالی سال 2026-27 کے خصوصی جزوی منصوبے کے تحت ’’بھارت رتن ڈاکٹر بی۔ آر۔ امبیڈکر مطالعہ پروگرام‘‘ کا انعقاد کیا گیا۔

یہ پروگرام ہفتہ 22 اگست کی صبح بگدل کے مورار جی دیسائی رہائشی اسکول میں منعقد ہوا۔ پروگرام کا افتتاح ڈاکٹر بی۔ آر۔ امبیڈکر کی تصویر پر پھول نچھاور کرنے اور پودے کو پانی دینے کے بعد کیا گیا۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سدّرام سندھے نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ کتب بینی کو اپنی عادت بنائیں اور علم حاصل کریں۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم کے ذریعے اپنی زندگی کو سنوارنے کے ساتھ ساتھ معاشرے کی خدمت کرنے والی باصلاحیت اور مثالی شخصیات بننے کی کوشش کرنی چاہیے۔

ریاستی جنگلی حیات بورڈ کے رکن ونئے مالگے نے ’’ڈاکٹر بی۔ آر۔ امبیڈکر کی حیات، خدمات اور تحریریں‘‘ کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہر انسان کی زندگی ایسی ہونی چاہیے جو معاشرے میں مثبت تبدیلی لانے کا ذریعہ بنے۔ تعلیم اور مطالعے کے ذریعے ہی معاشرے میں بڑی تبدیلی لائی جاسکتی ہے اور ڈاکٹر بی۔ آر۔ امبیڈکر نے اپنی زندگی کے ذریعے اس حقیقت کو ثابت کیا۔

انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر امبیڈکر تعلیم اور مطالعے کو غیر معمولی اہمیت دیتے تھے۔ علم کے حصول کے ذریعے انسان نہ صرف اپنی زندگی بدل سکتا ہے بلکہ پورے معاشرے کی سمت بھی تبدیل کرسکتا ہے۔

ونئے مالگے نے طلبہ کو ڈاکٹر امبیڈکر کے افکار، نظریات اور پیغامات سے روشناس کرانے کے لیے منفرد انداز اختیار کیا۔ انہوں نے طلبہ کو اس تصور کے ساتھ پروگرام میں شامل کیا کہ اگر ڈاکٹر امبیڈکر خود اسکول تشریف لاکر طلبہ سے گفتگو کرتے تو وہ انہیں کیا پیغام دیتے۔ طلبہ کی آواز کے ذریعے ڈاکٹر امبیڈکر کے افکار اور پیغامات پیش کیے گئے، جس سے بچوں کو ان کی حیات اور نظریات کو آسانی سے سمجھنے کا موقع ملا۔

پروگرام کی صدارت چنّ بسوا ہیڈے نے کی۔ نوجوان رہنماؤں مہیش گورناڑلکر اور کاشی ناتھ گجّگیرے نے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر سنیل بھاویکٹی، گوتم بگدلکر، گوتم کُدرے، محترمہ کلیمنٹینا سمیت دیگر معززین موجود تھے۔

مضمون نویسی اور تقریری مقابلوں میں طلبہ کی کامیابی

مضمون نویسی کے مقابلے میں سنیہا شیواکمار نے اوّل، سشمیتا کوپیندر نے دوم اور سدرشن شیواکمار نے سوم مقام حاصل کیا۔مختصر تقریری مقابلے میں نیتک چندراکانت نے اوّل، سدرشن شیواکمار نے دوم اور رتیکا آنند نے سوم مقام حاصل کیا۔

مضمون نویسی کے مقابلے کے منصفین کے فرائض محترمہ سُورنّا اور محترمہ ویبھاوی نے انجام دیے۔مقابلوں میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے والے طلبہ کو معززین کے ہاتھوں کتب، انعامات اور اسناد پیش کرکے حوصلہ افزائی کی گئی۔

ابتدا میں پردیپ نڈودے نے خیرمقدم کیا، گوتم کُدرے نے نظامت کے فرائض انجام دیے جبکہ سُورنّا نے اظہارِ تشکر کیا۔اس موقع پر اسکول کے اساتذہ اور طلبہ کثیر تعداد میں موجود تھے۔

NEWS & ADVERTISMENT CONTACT     9880736910

NEWS & ADVERTISMENT CONTACT     9880736910

NEWS & ADVERTISMENT CONTACT                         9880736910

NEWS & ADVERTISMENT CONTACT                         9880736910
SAFA HOSPITAL BIDAR


NEWS & ADVERTISMENT CONTACT                           9880736910


NEWS & ADVERTISMENT CONTACT 9880736910








ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے