کاکروچ جنتا پارٹی پریشان لوگوں کی آواز ہے ابھجیت دیپکے
نئی دہلی 6 جون ( نامہ نگار ) سوشل میڈیا کے پیٹ سے حال ہی میں پیدا ہونے والی کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے کنوینر ابھجیت دیپکے نے ہفتہ کو کہا کہ ان کی پارٹی کسی پہلے سے طے شدہ سیاسی حکمت عملی کا نتیجہ نہیں ہے، بلکہ وہ حکومت سے ناراض لوگوں کی آواز بن کر ابھری ہے اور چند ہی دنوں میں لاکھوں لوگ اس سے جڑ چکے ہیں۔
مسٹر دیپکے اور سی جے پی کی اپیل پر ہفتہ کو قومی دارالحکومت کے جنتر منتر احتجاجی مقام پر ہزاروں کی تعداد میں نوجوانوں نے جمع ہو کر کچھ آل انڈیا امتحانات میں پرچے لیک ہونے کے معاملے پر وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا۔ مسٹر دیپکے نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مرکز کے اقتدار پر قابض بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے عوام کو ہندو مسلم مسائل میں الجھا کر رکھا ہے، جبکہ اصل سوال روزگار، روزی روٹی اور عام لوگوں کے مسائل کا ہے۔ انہوں نے کہا، "گزشتہ 10-12 سالوں سے ہمیں ہندو مسلم میں الجھا کر رکھا گیا۔ کیا ہندو مسلم سے نوکریاں مل رہی ہیں؟ کیا ہندو مسلم کی سیاست سے لوگوں کے گھر اچھی طرح چل رہے ہیں؟ آخر ہندو مسلم کی سیاست سے فائدہ کس کو ہو رہا ہے؟”
مسٹر دیپکے نے مظاہرین سے تحریک کو پرامن رکھنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ کئی طاقتیں اس تحریک کو ناکام دیکھنا چاہتی ہیں۔ انہوں نے کہا، "گزشتہ پانچ دنوں سے میں مسلسل گزارش کر رہا ہوں کہ ہمارا احتجاج مکمل طور پر پرامن رہے۔ یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ اس تحریک کو ناکام نہ ہونے دیں۔”
انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت کے خلاف بولنے والے نوجوانوں اور ان کے خاندانوں میں خوف کا ماحول بنایا جا رہا ہے۔ مسٹر دیپکے نے کہا، "جب میں امریکہ سے ہندوستان لوٹ رہا تھا، تب میری ماں رو رہی تھیں۔ انہیں ڈر تھا کہ حکومت مجھے جیل میں ڈال دے گی۔ یہ صرف میری ماں کا ڈر نہیں ہے، بلکہ ہر اس ماں کا ڈر ہے جس کا بیٹا حکومت کے خلاف آواز اٹھاتا ہے۔” انہوں نے کہا کہ لوگوں کو یہ پیغام دینا ضروری ہے کہ وہ خوف کی سیاست سے گھبرانے والے نہیں ہیں۔ مسٹر دیپکے نے کہا کہ مرکزی وزیر دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے مطالبے کے حق میں سوشل میڈیا پر مہم شروع ہوئے ایک ماہ سے زیادہ کا وقت ہو چکا ہے، لیکن کارروائی کرنے کے بجائے توجہ ہٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
انہوں نے الزام لگایا، "ہم گزشتہ ایک ماہ سے دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ مانگ رہے ہیں لیکن یہ لوگ توجہ ہٹانے میں لگے ہیں۔ ہمارے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک کیے جا رہے ہیں اور پوسٹس ہٹوائی جا رہی ہیں۔ آپ ہماری پوسٹ تو ڈیلیٹ کر سکتے ہیں، لیکن ہمیں اس جگہ سے مٹا نہیں سکتے۔” اسی دوران، سی جے پی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا، "لوگ پوچھتے ہیں کہ تحریک، دھرنا مظاہرہ اور جلوس نکالنے سے کیا حاصل ہوتا ہے؟ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ہم زندہ ہیں۔
اس پارٹی نے اپنا نام سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سوریہ کانت کے ایک تبصرے سے لیا ہے جس میں انہوں نے ایک درخواست کی سماعت کے دوران عدالت اور سوشل میڈیا کا غلط استعمال کر کے یا آر ٹی آئی کارکن بن کر دوسروں پر حملہ کرنے والوں کو ‘کاکروچ’ کا نام دیا تھا۔











0 تبصرے