خواتین ریزرویشن بل کی مخالفت، کانگریس کو ناری شکتی کا شراپ لگے گا: بھگونت کھوبا
بیدر20 اپریل (نامہ نگار)سابق مرکزی وزیر بھگونت کھوبا نے کہا ہے کہ کانگریس پارٹی نے پارلیمنٹ میں خواتین ریزرویشن بل کی مخالفت کر کے اس کے نفاذ میں رکاوٹ ڈالی ہے، جس کے باعث ناری شکتی کا شراپ کانگریس قیادت کو ضرور لگے گا۔وہ اتوار کے روز شہر کے ضلعی پریس کلب میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ 12ویں صدی میں بسونّا کے دور میں اکا مہادیوی، اکا ناگمّا، ایدکّی لکّمّا اور کلیانمّا جیسی عظیم خواتین نے انوبھو منٹپ میں نمایاں کردار ادا کیا تھا، جہاں تقریباً 50 فیصد خواتین شریک تھیں۔ ایسے ملک میں، جہاں خواتین کو تاریخی طور پر عزت حاصل رہی ہے، آج کانگریس کی جانب سے خواتین ریزرویشن بل کی مخالفت ایک بڑا المیہ ہے، جس پر عوام آنے والے دنوں میں انہیں سبق سکھائیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ خواتین ریزرویشن بل سے جنوبی ریاستوں کو کوئی نقصان نہیں ہوگا، بلکہ حلقہ بندی کے بعد کرناٹک میں لوک سبھا نشستوں کی تعداد 28 سے بڑھ کر 42 ہو سکتی تھی، جبکہ درج فہرست ذاتوں کے لیے نشستیں 9 سے بڑھ کر 11 ہو جاتیں، جس سے خواتین کو زیادہ نمائندگی ملتی۔ انہوں نے اسے درج فہرست ذاتوں اور قبائلی طبقات کی خواتین کے ساتھ "بڑا دھوکہ" قرار دیا۔فصل بیمہ کے موضوع پر بات کرتے ہوئے بھگونت کھوبا نے کہا کہ ضلع انچارج وزیر کی جانب سے بیمہ رقم نہ ملنے کے الزامات غلط ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ مرکزی حکومت نے 1 لاکھ 60 ہزار کسانوں کو 100 کروڑ 66 لاکھ روپے بطور فصل بیمہ فراہم کیے ہیں۔اس موقع پر بی جے پی ضلع خواتین مورچہ کی صدر اُلاّسنی مودالے نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی خواتین کا ہمیشہ احترام کرتے ہیں اور خواتین ریزرویشن بل کو نافذ کرنے کے لیے سنجیدہ کوششیں کی گئیں، لیکن کانگریس اور اس کے حلیفوں نے اس کی مخالفت کر کے خواتین کی توہین کی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ آئندہ دنوں میں خواتین کانگریس لیڈروں کے گھروں کے سامنے احتجاج کریں گی۔بی جے پی ضلع صدر سومناتھ پاٹل نے کہا کہ کانگریس پارٹی دوسروں کو فرقہ پرست کہتی ہے، مگر خود خواتین ریزرویشن بل کی مخالفت کر کے اس نے اپنی حقیقت ظاہر کر دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام آنے والے دنوں میں کانگریس کو مناسب جواب دیں گے۔ ساتھ ہی انہوں نے الزام لگایا کہ ریاستی حکومت نے گنّا سپلائی کرنے والے کسانوں کو طے شدہ 2800 روپے ابھی تک ادا نہیں کیے ہیں۔پریس کانفرنس میں پارٹی کے کئی قائدین اور عہدیداران بھی موجود تھے، جن میں گروناتھ جینتیکر، ششدھر ہوسلی، شکنتلا بیلڈالے، وجئے لکشمی کاؤٹے، لمبنی گوتم، سرینواس چودھری اور ارون باوگے شامل تھے۔








0 تبصرے