کرناٹک اردواکاڈمی کی خبریں اردو اخبارات میں شائع نہ کرنے کا فیصلہ
گلبرگہ 14 فبروری (ناز میڈیا ) کرناٹک کے اردو اخبارات کے مدیران کی تنظیم کرناٹک اردو ایڈیٹرس فورم نے کرناٹک اردو اکاڈمی کی خبریں رپورٹیں اور اعلانات اردو اخبارات میں شائع نہ کرنے کا فیصلہ لیا ہے فورم کے صدر مدثر احمد ایڈیٹر روزنامہ آج کا انقلاب شیموگہ عزیز اللہ سرمست ایڈیٹر روزنامہ بہمنی نیوز گلبرگہ سعید قادری ایڈیٹر روزنامہ ادبی عکاس بیدر نے کرناٹک کے تمام اردو روزنامہ اخبارات کے مدیران سے اپیل کی ہے کہ وہ کرناٹک اردو اکاڈمی کی کوئی خبر اعلان اور رپورٹ اپنے اخبارات میں شائع نہ کریں عزیز اللہ سرمست نے کہا ہے کہ انہوں نے خود کرناٹک اردو اکاڈمی کے چیرمین قاضی محمد علی صاحب کو یادداشت پیش کرتے ہوئے ریاست کے اردو اخبارات کی بقا کیلئے کرناٹک اردو اکاڈمی سے ماہانہ ایک صفحہ کا اشتہار دینے کا مطالبہ کیا تھا لیکن اس مطالبہ کو یکسر نظر انداز کیا گیا ہے مدثر احمد ایڈیٹر روزنامہ آج کا انقلاب نے بھی کرناٹک اردو اکاڈمی کو مکتوب لکھتے ہوئے اردو اخبارات کو اشتہارات جاری کرنے کی اپیل کی تھی لیکن کرناٹک اردواکاڈمی کے چیرمین اور ممبران نے اس درخواست پر کوئی توجہ نہیں دی جبکہ اردو صحافیوں کی تربیت و کارگاہ کے نام پر یو ٹیوبرس کو مدعو کر کے لاکھوں روپئے خرچ کئے گئے تربیت دینے والے اور ریسورس پرسن دونوں کرناٹک اردو اکاڈمی کے ممبران ہی رہے جو صحافی نہیں ہیں کرناٹک اردو اکاڈمی میں صحافیوں کی نمائندگی کیلئے جن 3 ممبران کو نامزد کیا گیا ہے وہ کالم نگار اور یو ٹیوبر ہیں انہیں اردو اخبارات کے مسائل سے کوئی دلچسپی نہیں یہ حقیقت ہے کہ آج اردو کو صرف اردو اخبارات زندہ رکھے ہوئے ہیں کرناٹک اردو اکاڈمی کو مشاعروں ادبی پروگراموں قوالیوں کے انعقاد کے ساتھ ساتھ اردو اخبارات کو اشتہار دینا چاہیئے کیونکہ اردو اکاڈمی کی ساری سرگرمیاں اردو اخبارات کے ذریعے ہی اردو داں عوام تک پہنچتی ہیں کرناٹک اردو اکاڈمی کی جانب سے اردو اخبارات کو نظر انداز کرنے کے معاندانہ رویہ کیخلاف روزنامہ بہمنی نیوز گلبرگہ روزنامہ آج کا انقلاب شیموگہ روزنامہ ادبی عکاس بیدر اور روزنامہ آواز کرناٹک رام نگر نے کرناٹک اردو اکاڈمی کی خبروں رپورٹوں اور اعلانات کی اشاعت کا مکمل بائیکاٹ کیا ہے ریاست کے دوسرے اردو اخبارات سے بھی اپیل ہے کہ وہ اس مہم میں شامل ہو کر کرناٹک اردو اکاڈمی کی جانب سے اردو اخبارات کو نظر انداز کرنے کے خلاف احتجاج کریں کرناٹک اردو اکاڈمی کا یہ عذرلنگ ہے کہ اکاڈمی کے پاس اردو اخبارات کو اشتہارات دینے کیلئے فنڈ کی گنجائش نہیں ہے جبکہ اکاڈمی کے دیگر پروگراموں میں شاہ خرچی کی جارہی ہے اور ایک ہی شہر اور اس کے اطراف اکاڈمی کی مالی اعانت سے کئی کئی پروگرام منعقد کئے جارہے ہیں ممبران کی جانب سے اپنی کتابیں شائع کرنے کیلئے اکاڈمی سے مالی امداد لی جارہی ہے اکاڈمی کے پروگراموں میں چنندہ شخصیات کو بار بار مدعو کرتے ہوئے کھلی اقربا پروری کی جارہی ہے مجموعی طور پر اکاڈمی کے فنڈ کے استعمال میں شفافیت دکھائی نہیں دیتی لیکن اردو اخبارات کو اشتہارات دینے کیلئے رولس ریگولیشن کی بات کہی جاتی ہے کرناٹک اردو اکادمی کے بجٹ کے استعمال کی تحقیقات کروائی جانی چاہیئے عنقریب اس سلسلہ میں ریاستی حکومت سے رجوع کیا جائے گا









0 تبصرے