آلودہ کھانا کھانے سے 50 طلبہ کی طبیعت ناساز، ڈی سی شلپا شرما کا فوری دورہ، سخت کارروائی کا انتباہ
بیدر5 فروری ( نامہ نگار) ضلع بیدر کے اوراد بی تحصیل کے جمالپور سرکاری پرائمری اسکول میں منگل کے روز دوپہر کا کھانا کھانے کے بعد تقریباً 50 طلبہ اچانک بیمار ہو گئے، جنہیں فوری طور پر اوراد کے سرکاری اسپتال منتقل کر کے داخل کیا گیا۔ واقعہ کے بعد اسکول میں کچھ دیر کے لیے افرا تفری کا ماحول پیدا ہو گیا۔ذرائع کے مطابق، کھانا کھانے کے کچھ ہی دیر بعد کئی بچوں کو پیٹ درد اور قے کی شکایت ہوئی، جس سے دیگر طلبہ میں بھی تشویش پھیل گئی۔ اساتذہ نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے محکمہ صحت کو اطلاع دی اور ایمبولینس کے ذریعے متاثرہ بچوں کو قصبے کے سرکاری اسپتال پہنچایا، جہاں ڈاکٹروں نے فوری طبی امداد فراہم کی۔اسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ داخل شدہ بچوں میں سے تقریباً 20 کو پیٹ درد کی شدید شکایت تھی، تاہم تمام طلبہ کی حالت اب قابو میں ہے اور انہیں مسلسل نگرانی میں رکھا جا رہا ہے۔ تحصیل ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر گایتری نے بتایا کہ ابتدائی طور پر کھانے میں خرابی کا شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے اور معاملے کی مکمل جانچ جاری ہے۔ رپورٹ آنے کے بعد ہی اصل وجہ سامنے آسکے گی۔واقعہ کی اطلاع ملتے ہی ضلع ڈپٹی کمشنر محترمہ شلپا شرما فوراً اوراد تعلقہ اسپتال پہنچیں اور زیرِ علاج بچوں کی عیادت کرتے ہوئے داکٹروں سے تفصیلی معلومات حاصل کیں۔ انہوں نے ہدایت دی کہ علاج میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ بعد ازاں انہوں نے جمالپور اسکول کا دورہ کر کے کھانے کی تیاری، ذخیرہ اور تقسیم کے انتظامات کا معائنہ کیا اور متعلقہ حکام کو فوری اور شفاف تحقیقات کر کے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی۔اس موقع پر ضلع پنچایت کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر ڈاکٹر گریش بدولے، تحصیلدار مہیش پاٹیل، محکمہ صحت کے افسران اور کھانے کی فراہمی سے وابستہ ذمہ داران بھی موجود تھے۔ حکام نے والدین کو یقین دلایا کہ تمام بچے خطرے سے باہر ہیں۔ذمہ داری کا سوال اور عوامی تشویش اس واقعہ نے ایک بار پھر سرکاری اسکولوں میں فراہم کیے جانے والے دوپہر کے کھانے کے معیار پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ بچوں کی صحت کے ساتھ کسی بھی قسم کی لاپرواہی ناقابلِ قبول ہے۔ عوامی حلقوں کا مطالبہ ہے کہ اگر تحقیقات میں غفلت یا ناقص معیار ثابت ہو تو ذمہ دار افراد کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کی جائے اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر نگرانیکا نظام قائم کیا جائے۔انتظامیہ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ قصورواروں کو بخشا نہیں جائے گا اور طلبہ کی صحت و سلامتی کو اولین ترجیح دی جائے گی۔









0 تبصرے