تلنگانہ ہائی کورٹ میں میڈیا ایکریڈیٹیشن پالیسی کو چیلنج کرنے والی درخواستوں پر سماعت

تلنگانہ ہائی کورٹ میں میڈیا ایکریڈیٹیشن پالیسی کو چیلنج کرنے والی درخواستوں پر سماعت

تلنگانہ ہائی کورٹ میں ریاست کی متنازعہ میڈیا ایکریڈیٹیشن پالیسی کے خلاف دائر کردہ درخواستوں پر سماعت نے انتظامی کنٹرول اور صحافتی خود مختاری کے درمیان جاری کشمکش کو ایک نازک موڑ پر پہنچا دیا ہے۔ یہ قانونی چارہ جوئی محض حکومتی قواعد و ضوابط کا تنازع نہیں بلکہ دستورِ ہند کے تحت حاصل صحافتی آزادیوں کے تحفظ کی ایک اہم جدوجہد بن کر ابھری ہے۔ عدالتِ عالیہ نے معاملے کی حساسیت کو ملحوظ رکھتے ہوئے حکومت سے جواب طلب کیا ہے، جو ڈیجیٹل دور میں میڈیا کے کردار اور اس کی بقا کے سوالات کو جنم دیتا ہے۔


قانونی چیلنج کی بنیاد اور پٹیشنرز کے موقف کا تجزیہ


اس قانونی جنگ کا آغاز 'تلنگانہ اردو ورکنگ جرنلسٹ فیڈریشن' اور دیگر تنظیموں کی جانب سے دائر کردہ پٹیشنز سے ہوا، جن میں حکومت کے جاری کردہ 'جی او (G.O. Ms. No. 252)' اور ترمیم شدہ 'جی او (G.O. Rt. No. 103)' کو 'غیر آئینی' اور 'امتیازی' قرار دیتے ہوئے انہیں کالعدم کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔


درخواست گزاروں کا بنیادی استدلال یہ ہے کہ نئی پالیسی میں ڈیجیٹل میڈیا اور اردو زبان کے صحافیوں کے لیے وضع کردہ اہلیتی معیار اس قدر سخت اور غیر حقیقت پسندانہ ہیں کہ وہ چھوٹے میڈیا اداروں اور علاقائی زبان کے پیشہ ور افراد کی 'حاشیہ برداری' (Marginalization) کا باعث بن رہے ہیں۔ ان سخت گیر شرائط کی وجہ سے اردو صحافت اور نو آموز ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو سرکاری تسلیم سازی سے محروم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جو کہ صحافت کے تنوع پر براہِ راست حملہ ہے۔


عدالتی مداخلت اور حکومت کی جانب سے جواب ادخال کرنے میں تاخیر


چیف جسٹس اپریش کمار سنگھ اور جسٹس جی ایم موہی الدین پر مشتمل ڈویژن بنچ نے اس معاملے کی سماعت کی۔ عدالت نے تلنگانہ کے چیف سکریٹری، پرنسپل سکریٹری (جی اے ڈی)، کمشنر اطلاعات و تعلقات عامہ اور میڈیا اکیڈمی کے چیئرمین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے تفصیلات طلب کی ہیں۔


سماعت کے دوران یہ حقیقت سامنے آئی کہ حکومت کو 'جوابی ادخالات' (Counters) داخل کرنے کے لیے دی گئی تین ہفتوں کی مہلت ختم ہونے کے باوجود تاحال کوئی حلفیہ بیانِ مخالفت داخل نہیں کیا گیا۔ حکومت کی اس خاموشی پر قانونی حلقوں میں سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ عدالت نے اب اس اہم معاملے کی آئندہ سماعت کی تاریخ 29 اپریل 2026 مقرر کی ہے، تاکہ حکومت کو اپنا دفاع پیش کرنے کا آخری موقع مل سکے۔


درخواست گزاروں کے مطابق یہ پالیسی دستورِ ہند کی دفعات 14، 16، 19 اور 21 کی صریح خلاف ورزی ہے۔ قانونی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایکریڈیٹیشن کارڈ محض ایک شناختی دستاویز نہیں بلکہ سرکاری معلومات تک رسائی کا 'آکسیجن' ہے، جس کے بغیر پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی ادائیگی ناممکن ہے۔


دفعہ 21: وقار کے ساتھ زندگی گزارنے اور 'حقِ معاش' (Right to Livelihood) کو متاثر کیا گیا ہے، کیونکہ کارڈ کے بغیر ایک صحافی کی پیشہ ورانہ ساکھ اور آمدنی کے ذرائع خطرے میں پڑ جاتے ہیں۔


عبوری ریلیف اور موجودہ صورتحال کا خلاصہ


اگرچہ عدالت نے فی الوقت پوری پالیسی پر حکمِ امتناع جاری کرنے سے گریز کیا ہے، تاہم صحافیوں کو بڑی عارضی راحت فراہم کی ہے۔ عدالت نے حکم دیا ہے کہ تمام موجودہ ایکریڈیٹیشن کارڈز کی مدت میں 30 اپریل 2026 تک توسیع کی جائے گی۔ یہ عبوری حکم ان سیکڑوں صحافیوں کے لیے ایک حفاظتی دیوار ثابت ہوا ہے جو کارڈز کی میعاد ختم ہونے کی وجہ سے اپنی ملازمتوں اور سہولیات کے حوالے سے شدید بے یقینی کا شکار تھے۔


متعلقہ فریقین کے بیانات


پٹیشنرز کی نمائندگی کرنے والے ممتاز وکیل ایڈوکیٹ برکت علی خان نے عدالت میں اپنے دلائل دیتے ہوئے کہا:"ایکریڈیٹیشن کارڈز میڈیا پیشہ ور افراد کے لیے ایک حفاظتی ڈھال کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ افسوسناک ہے کہ حکومت کے حالیہ احکامات نہ صرف آئین کی دفعات 14، 16، 19 اور 21 سے متصادم ہیں بلکہ خود حکومت کے اپنے وضع کردہ سابقہ قواعد و ضوابط کی بھی نفی کرتے ہیں۔ کارڈز کی میعاد ختم ہونے دینا صحافیوں کے بنیادی حقوق پر براہِ راست قدغن لگانے کے مترادف ہے۔"


تلنگانہ اردو ورکنگ جرنلسٹ فیڈریشن کے جنرل سکریٹری سیدغوث محی الدین نے کہا کہ حکومت نے جی او 252کے ذریعہ صحافیوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے اس جی او میں اردو میڈیا اداروں کو نظر انداز کردیاگیاہے۔


تلنگانہ ہائی کورٹ کا یہ کیس ریاست میں پریس کی آزادی کے مستقبل کے لیے ایک سنگ میل کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ ریونت ریڈی انتظامیہ کے لیے یہ ایک بڑا امتحان ہے کہ وہ اپنی میڈیا پالیسی کو آئینی حدود کے اندر کیسے ثابت کرتی ہے۔ جہاں 30 اپریل 2026 تک کارڈز کی توسیع نے میڈیا برادری کو عارضی تحفظ فراہم کیا ہے، وہی اب پوری صحافتی برادری کی نظریں 29 اپریل 2026 کو ہونے والی حتمی سماعت پر مرکوز ہیں، جو ڈیجیٹل اور اردو میڈیا کے مستقبل کا تعین کرے گی۔
NEWS & ADVERTISMENT CONTACT     9880736910

NEWS & ADVERTISMENT CONTACT     9880736910

NEWS & ADVERTISMENT CONTACT                         9880736910

NEWS & ADVERTISMENT CONTACT                         9880736910
SAFA HOSPITAL BIDAR


NEWS & ADVERTISMENT CONTACT                           9880736910


NEWS & ADVERTISMENT CONTACT 9880736910


NEWS & ADVERTISMENT CONTACT     9880736910

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے