جرمِ عظیم کا دیا جائیگا سخت جواب، ایران کے صدرمسعود پزشکیان کا بیان
رہبراعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای کی موت کے بعدصف ماتم بچھی ہے۔تہران سمیت مختلف شہروں میں لوگ سڑکوں پر نکل آئے ہیں ۔ اسرائیل اور امریکہ کے خلاف لوگوں نے نعرے بازی کی گئی۔ روضوں پر انقلاب کی علامت سرخ لائٹیں روشن کردی گئی ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ، ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای کے قتل کا جواب دینے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے خامنہ ای کے قتل کو عظیم جرم قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے اور اس کا جواب دینے کے عزم کا اظہار کیا۔انھوں نے کہا کہ اس جُرم کا جواب دیا جائےاور عالم اسلام اور شیعیت کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ پلٹ دے گا۔ ایران کی سرکاری نیوزایجنسی ارنا کی رپورٹ کے مطابق ، صدر مملکت،چیف جسٹس اورشوری کے ایک رکن پرمشتمل سہ رکنی کونسل عبوری دور کی نگرانی کرے گی اور ملک میں تمام قیادت کے فرائض سنبھالے گی۔ ادھر،ایرانی فوج نے سپریم لیڈر آیت اللّٰہ خامنہ ای کو شہید کیے جانے کا بدلہ لینے کا اعلان کیا ہے۔ آیت اللہ خامنہ ای نے ایران کے بانی رہنما آیت اللہ روح اللہ خمینی کے انتقال کے بعد یہ منصب سنبھالا تھا۔ خمینی نے 1979 کے اسلامی انقلاب کی قیادت کی تھی جس کے نتیجے میں شاہ ایران کی حکومت کا خاتمہ ہوا اور ایران میں اسلامی جمہوریہ قائم ہوئی۔ 1979 کے انقلاب کے بعد ان کا سیاسی کردار مضبوط ہوا۔ 1981 میں وہ ایران کے صدر منتخب ہوئے اور 1989 میں سپریم لیڈر مقرر ہوئے۔ ایران کے رہبراعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای نہیں رہے ، ایران میں 7 روزہ تعطیل اور 40 روز کے سوگ کا اعلان
رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت کے بعد ، پاسدارانِ انقلاب نے پوری شدت سے امریکی اڈوں اور اسرائیل پر حملہ کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔سپاہ پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج مقبوضہ علاقوں اور امریکی دہشت گرد اڈوں پر تاریخ کی سب سے تباہ کن جارحانہ کارروائی شروع کریں گی۔








0 تبصرے