مرکی سولر پلانٹ کا معائنہ، مقامی افراد کو روزگار اور کسانوں کو منصفانہ معاوضہ دیا جائے: پربھو چوہان
بیدر8 اکتوبر( نامہ نگار ) اوراد کے رکن اسمبلی اور سابق وزیر پربھو بی۔ چوہان نے کہا ہے کہ کمل نگر تعلقہ کے مرکی گاؤں میں زیرِ تعمیر سولر پلانٹ میں مقامی نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں اور اپنی زمین دینے والے کسانوں کو منصفانہ معاوضہ دیا جائے۔
پربھو بی۔ چوہان نے حال ہی میں مرکی گاؤں کی حدود میں زیرِ تعمیر سولر پلانٹ کا دورہ کرکے تعمیراتی کاموں کی پیش رفت اور پلانٹ کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر انہوں نے پلانٹ کے احاطے میں جاری کاموں اور مشینری کا معائنہ کیا۔ بعد ازاں متعلقہ عہدیداروں اور پلانٹ کے نمائندوں کے ساتھ اجلاس منعقد کرتے ہوئے پلانٹ کی صلاحیت، تعمیراتی پیش رفت اور مقامی سطح پر دستیاب روزگار کے مواقع کے بارے میں تفصیلات حاصل کیں۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے رکن اسمبلی نے کہا کہ اوراد (بی) اور کمل نگر تعلقوں کے نوجوانوں کو مقامی سطح پر روزگار فراہم کرنے اور کسانوں کو معاشی طور پر مستحکم بنانے کے مقصد سے وہ مسلسل کوششیں کررہے ہیں۔ اس علاقے میں صنعتوں اور سولر کمپنیوں کے قیام کے لیے انہوں نے متعدد اقدامات کیے ہیں، جن میں پاور گرڈ سب اسٹیشن کا قیام بھی شامل ہے۔ ان کوششوں کے نتیجے میں حلقے میں کئی سولر کمپنیاں آرہی ہیں اور بنجر زمین کی مانگ میں اضافہ ہونے سے کسانوں کو اپنی زمینوں کی بہتر قیمت مل رہی ہے، جو ایک خوش آئند پیش رفت ہے۔
انہوں نے سولر منصوبوں کے لیے زمین فراہم کرنے والے کسانوں کو مناسب اور منصفانہ معاوضہ دینے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پڑوسی ریاست مہاراشٹر کے طرز پر فی ایکڑ کم از کم 50 ہزار روپے معاوضہ دینے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ اس کے علاوہ زمین دینے والے کسانوں کے خاندانوں کے نوجوانوں کو سولر پلانٹس میں ملازمتیں فراہم کی جائیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ تکنیکی مہارت درکار عہدوں کو چھوڑ کر دیگر ملازمتوں میں مقامی نوجوانوں کو ترجیح دی جائے۔
پربھو چوہان نے پلانٹ کے نمائندوں کو ہدایت دی کہ سولر پلانٹ کے کام کاج کے لیے درکار گاڑیاں، جے سی بی مشینیں، ٹپر اور دیگر خدمات مقامی افراد سے حاصل کی جائیں۔ مقامی لوگوں کو ملنے والے روزگار اور کاروبار کے مواقع کسی بھی صورت میں باہر کے لوگوں کو نہیں دیے جانے چاہئیں۔
انہوں نے کہا کہ زمین دینے والے کسانوں کو معاوضے کی ادائیگی میں تاخیر کی شکایات موصول ہورہی ہیں۔ کسانوں کو بروقت معاوضہ دیا جائے اور ادائیگی میں کسی قسم کا امتیاز نہ برتا جائے۔ خاص طور پر دلالوں اور بروکروں کی مداخلت کے بغیر براہِ راست کسانوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ ترقیاتی کاموں کے حامی ہیں اور اس سلسلے میں ان کا تعاون ہمیشہ جاری رہے گا، تاہم اگر کسانوں کو کسی بھی طرح پریشان کیا گیا یا ان کے حقوق کی خلاف ورزی ہوئی تو اسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔
اس موقع پر سنجو مرکے، نندو کالے، اشوک ہلمندگے، سنتوش بارولے، شتروگھن جولدابکے، کالی داس آڈے، راج کمار بارولے سمیت دیگر اہم شخصیات اور سولر پلانٹ کے نمائندے موجود تھے۔










0 تبصرے