گنے کی قیمت 5,500 روپے فی ٹن مقرر کرنے کا مطالبہ، 13 اکتوبر کو قومی شاہراہیں بند کرنے کی وارننگ
بیدر، 11 اکتوبر( نامہ نگار ) کرناٹک راجیہ رائیت سنگھا و ہری سینا کے ریاستی کارگزار صدر مہیش گوڑ ایم سبے دار نے مطالبہ کیا ہے کہ گنے کی قیمت 5,500 روپے فی ٹن مقرر کی جائے، بصورت دیگر 13 اکتوبر کو بیدر، کلبرگی، یادگیر اور رائچور سمیت مختلف اضلاع میں قومی شاہراہیں بند کرکے احتجاج کیا جائے گا۔
Advertisment
ضلع پریس بھون بیدر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے مرکزی و ریاستی حکومتوں سے ڈاکٹر ایم ایس سوامی ناتھن کمیشن کی سفارشات نافذ کرنے، کسانوں کو روزانہ 10 تا 12 گھنٹے بجلی فراہم کرنے اور شوگر فیکٹریوں کے ذریعے بقایا جات 14 دن میں ادا کرنے کا مطالبہ کیا۔انہوں نے کہا کہ گنے کی مناسب قیمت مقرر ہونے تک شوگر فیکٹریاں شروع نہ کی جائیں۔ گنے کی ادائیگی میں تاخیر پر 15 فیصد سود دیا جائے اور 9.25 فیصد ریکوری کی بنیاد پر فی ٹن 5,500 روپے مقرر کیے جائیں۔ گنے کی تول میں مبینہ بے ضابطگیوں کو روکنے کے لیے ڈیجیٹل وزنی کانٹے نصب کرنے اور ریکوری کی جانچ میں کسان نمائندوں کو شامل کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔سبے دار نے کہا کہ گنے کی کٹائی اور نقل و حمل کے اخراجات فیکٹریاں برداشت کریں۔ ایتھنول، مولاسس، بیگاس اور بجلی سمیت ضمنی مصنوعات سے ہونے والی آمدنی کو بھی گنے کی قیمت طے کرتے وقت مدنظر رکھا جائے۔انہوں نے تور دال کی قیمت 15,000 روپے، دھان کی 5,000 روپے اور کپاس کی 15,000 روپے فی کوئنٹل مقرر کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ فصلوں کی قیمتیں حقیقی پیداواری لاگت کے مطابق طے کی جائیں۔انہوں نے بتایا کہ 12 اکتوبر کو دہلی کے کرشی بھون میں ہونے والے اجلاس میں مطالبات منظور نہ ہونے پر 13 اکتوبر سے کرناٹک، مہاراشٹر اور دیگر ریاستوں میں غیر معینہ مدت تک قومی شاہراہیں بند کرکے احتجاج کیا جائے گا۔ گُرلاپور میں کسان تحریک کے حتمی فیصلے تک شوگر فیکٹریاں شروع نہ کرنے کا بھی انتباہ دیا۔پریس کانفرنس میں ضلعی صدر ملارےڈی مرال، یادگیر ضلع صدر وجے کمار مستور، سنگورےڈی کنکٹا، سکیّش ریڈی، سنتوش شیڈولے، سنجو ریڈی، سوشانت ریڈی، سریش ریڈی، بسوا کمار پاٹل، اشوک پاٹل، شاجِد برادار، توکارام گولّے، پانڈو ریڈی، گووند ریڈی اور جے پال ریڈی سمیت دیگر عہدیداران موجود تھے۔








0 تبصرے