بیدر میں فرضی ڈاکٹروں کے خلاف فوجداری مقدمات درج کرنے کی ہدایت، دو افراد پر فی کس 2.5 لاکھ روپے جرمانہ
بیدر 11 اکتوبر (نامہ نگار)ضلع بیدر میں غیر قانونی طور پر طبی پریکٹس کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر محترمہ شلپا شرما نے دو مبینہ فرضی ڈاکٹروں پر فی کس 2 لاکھ 50 ہزار روپے جرمانہ عائد کرنے اور ان کے خلاف فوجداری مقدمات درج کرنے کی ہدایت دی ہے۔اس سلسلے میں بیدر شہر کے ضلع صحت و خاندانی بہبود کے دفتر میں کرناٹک پرائیویٹ میڈیکل اسٹیبلشمنٹ (کے پی ایم ای) ایکٹ کے تحت ضلع سطح کی رجسٹریشن اور شکایات کے ازالے سے متعلق اتھارٹی کے اجلاس کا انعقاد عمل میں آیا۔
اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نے مختلف معاملات کا جائزہ لیا اور متعلقہ حکام کو ضروری ہدایات جاری کیں۔اطلاعات کے مطابق، کمل نگر میں مبینہ طور پر غیر قانونی طبی پریکٹس کرنے والے کولکاتا کے گوتھم سمدار اور سوجل کمار سین پر اس سے قبل فی کس 25 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا تھا اور انہیں دوبارہ طبی پریکٹس نہ کرنے کی تنبیہ دی گئی تھی۔ تاہم، اس کے باوجود ان کی جانب سے طبی پریکٹس جاری رکھنے کا معاملہ سامنے آنے پر ڈپٹی کمشنر نے دونوں پر فی کس 2 لاکھ 50 ہزار روپے جرمانہ عائد کرنے اور فوجداری مقدمات درج کرنے کی ہدایت دی۔ایلوپیتھی پریکٹس کرنے پر 50 ہزار روپے جرمانہ اجلاس میں ڈاکٹر ہریش وشوکرما کے معاملے پر بھی کارروائی کی گئی۔ آیورویدک میڈیکل کی ڈگری رکھنے والے ڈاکٹر ہریش وشوکرما، کمتھانہ گاؤں کے پرگتی کلینک میں ایلوپیتھی طریقۂ علاج سے پریکٹس کر رہے تھے۔ اسے کے پی ایم ای ایکٹ کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے ان پر 50 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا اور ایلوپیتھی پریکٹس نہ کرنے کی ہدایت دی گئی۔تین مبینہ فرضی ڈاکٹروں پر بھی کارروائی بغیر کسی مستند طبی ڈگری کے پریکٹس کرنے کے معاملے میں مزید تین افراد کے خلاف کارروائی کی گئی۔ ان میں راج شیکھر، جو تعلقہ اوراد (بی) کے جَمبگی گاؤں میں بالاجی کلینک چلا رہے تھے، سبھاش داس، ساکن انادور، تعلقہ بیدر، اور وشواجیت، ساکن بیری (کے)، تعلقہ بھالکی شامل ہیں۔ان تینوں پر فی کس 50 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا اور انہیں آئندہ غیر قانونی طور پر طبی پریکٹس نہ کرنے کی تنبیہ دی گئی۔معطلی کے باوجود نجی کلینک چلانے کا معاملہ اجلاس میں سرکاری ملازم کی جانب سے قواعد کی خلاف ورزی کا معاملہ بھی زیرِ غور آیا۔ کمل نگر تعلقہ کے چاندوری گاؤں سے تعلق رکھنے والے پریم کمار، جو بنیادی مرکزِ صحت مدھول (بی) میں سرکاری نرسنگ افسر کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے تھے، کے خلاف غیر مجاز طور پر نجی کلینک چلانے کا معاملہ سامنے آیا تھا۔ اس کے بعد محکمہ صحت و خاندانی بہبود کے ڈائریکٹر، بنگلورو نے انہیں 31 جنوری 2026 کو سرکاری ملازمت سے معطل کر دیا تھا۔معطلی کے باوجود نجی طور پر طبی پریکٹس جاری رکھنے کی اطلاع پر 5 اکتوبر 2026 کو دوسری مرتبہ چھاپہ مارا گیا اور متعلقہ کلینک کو سیل کر دیا گیا۔
ڈپٹی کمشنر نے ضلع صحت و خاندانی بہبود کے افسر کو ہدایت دی کہ پریم کمار کو دیے جانے والے گزارہ الاؤنس کو روکنے کے لیے محکمہ صحت و خاندانی بہبود کے ڈائریکٹر، بنگلورو سے سفارش کی جائے۔اجلاس میں ضلع پنچایت بیدر کے چیف ایگزیکٹیو افسر گِتّے مادھو وٹھل راؤ، اسسٹنٹ کمشنر ابھینو جین، ضلع صحت و خاندانی بہبود کے افسر ڈاکٹر انیل کمار چنتامنی، کے پی ایم ای کے ضلعی نوڈل افسران اور محکمہ صحت کے مختلف پروگراموں کے نفاذ سے متعلق افسران موجود تھے۔








0 تبصرے