بھالکی میں صرف مسلمانوں کے نام ووٹرلسٹ سے حذف کرنے کی سازش، ہم احتجاج کریں گے:طاہرحسین ایڈوکیٹ WPIکااعلان
بیدر25ستمبر( نامہ نگار ) بیدر ضلع کے بھالکی اسمبلی حلقہ میں بڑے پیمانے پر ووٹ ڈلیشن کے لئے فارم نمبر 7داخل کئے گئے ہیں۔ غیرمصدقہ ذرائع کے مطابق ایک ہزا رچار سو (1400) ووٹرس کے نام ڈیلیٹ کرنے کے لئے فارم نمبر 7داخل کئے گئے ہیں۔ پارٹ نمبر 107, 115,114,112,111کے علاوہ 129کے جملہ 1400ووٹ حذف کرنے کے لئے درخواست دی گئی ہیے۔ لیکن دفتری حوالے سے کہاجارہاہے کہ صرف 384افراد پر ہی فارم نمبر7 داخل کیاگیاہے۔ بھالکی مستقر کے علاوہ لکھن گاؤں، ہلبرگہ، ہپلا، اُچاوغیرہ میں 200تا400نام کٹ کرنے کے لئے 7نمبر فارم داخل کیاگیاہے۔
یہ دراصل اوبی سی، مینارٹی اورآدی واسیوں کی خلاف کی جارہی ملک گیر سازش کاایک حصہ ہے۔ یہ باتیں ایڈوکیٹ طاہر حسین ریاستی صدر WPIکرناٹکا نے کہیں۔ وہ آج شہر کی میورابرید شاہی ہوٹل میں اپنی جانب سے طلب کی گئی پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔ انھوں نے اس بات پر حیرت کااظہار کیاکہ جن افراد نے بھالکی اسمبلی حلقہ کے منتخبہ وارڈس میں فارم نمبر7داخل کیاہے، وہ صر ف ایک ہی کمیونٹی یعنی مسلمانوں کے خلاف داخل کیاہے۔ سنتوش نام کا ایک شخص ہے جوباربار فارم نمبر7داخل کرچکاہے،اسی طرح کلیان راؤ نامی شخص نے 100سے زائد افراد کے خلاف فارم داخل کرنے کی اطلاع ہے۔ یوگیش بھی ایک ایسا ہی نام ہے۔ یہی دوچار نام الگ الگ وارڈ س سے سامنے آئے ہیں۔ جناب طاہر حسین نے ریاست کرناٹک کے حوالے سے بتایاکہ پچھلے ہفتے 8ہزار ووٹرس کے نام پر اعتراض کرتے ہوئے انہیں خارج کرنے کی اپیل کی گئی تھی۔ اب ایک ہفتہ نہیں گزراتھاکہ پوری ریاست میں 65/ہزار نام خارج کرنے کے لئے فارم نمبر 7داخل کیاگیاہے۔ اور یہ سارے نام مبینہ طورپر مسلمانوں کے ہیں۔
انھوں نے الزام لگایاکہ یہ اعتراضات بلک میں کئے گئے ہیں اور بلک میں اعتراضات BLOقبول نہیں کرسکتے۔ اس کااختیار صرف EROکو ہے۔ جن لوگوں نے اصلی ووٹرس کے خلاف خواہ مخواہ کے الزامات لگائے ہیں Representation of People Act کی دفعہ 31کے تحت ان کے خلاف مقدمہ درج کیاجانا چاہیے۔ ایڈوکیٹ طاہر حسین نے روزنامہ ”انڈین ایکسپریس“میں شائع ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ اس رپورٹ کی بنیاد پر گیانیش کمار کے خلاف فوری ایکشن لیتے ہوئے انہیں ان کے عہدے سے ہٹایاجائے اور ان کے خلاف کارروائی بھی ہو۔ کیوں کہ گیانیش کمار نے اپنے دونوں ہم منصب ساتھیوں کے 14مرتبہ کئے گئے اعتراضات کو پس پشت ڈال کرالیکشن کمیشن آف انڈیا میں اپنی مرضی کا کام کیااور فارم نمبر 6میں بھی غیرمجاز
(غیرقانونی) ترمیم کرتے ہوئے نئے ووٹرس (جین زی) کے لئے مشکلات کھڑی کردی ہیں۔دوسری جانب سپریم کورٹ سے میری اپیل ہے کہ وہ گیانیش کمار کے خلاف سوموٹوکیس داخل کرے۔موصوف نے آگے کامنصوبہ بیان کرتے ہوئے کہاکہ ہماری ایک فیڈریشن ہے جوSIRکے خلاف اور اس میں ہورہی دھاندلیوں کے خلاف کام کررہی ہے۔ ہم فلم اسٹا رپرکاش راج کی قیادت میں دھاندلیوں کو ایکسپوز کررہے ہیں۔ اس کے لئے 30/ستمبر کو وزیراعلیٰ کرناٹک اور الیکشن کمیشن کرناٹکا کے سامنے پوری ریاست میں SIRکے معاملے میں ہورہی دھاندلیاں رکھیں گے۔ اس کے بعد 4/اکٹوبر کو دہلی میں بڑے پیمانے پرپبلک ہیرنگ کے عنوان سے احتجاج کیاجائے گا، جہاں عوام اپنے اوپر گزررہی مشکلات کوبیان کریں گے۔ پریس کانفرنس میں WPiبیدر کے ضلع صدر انجینئر مبشر سندھے، انجینئر سیدابراھیم اور جاویدعلی صاحب موجودتھے۔








0 تبصرے