جامبگی میں جعلی ڈاکٹر کا کلینک سیل، آخر کب تک چلے گا ایسا کھیل؟
بیدر29 ستمبر( نامہ نگار ) بیدر ضلع کے اوراد تعلقہ کے جامبگی گاؤں میں بغیر کسی باقاعدہ طبی ڈگری کے مبینہ طور پر علاج کرنے والے راج شیکھر کے کلینک پر محکمہ صحت نے اچانک چھاپہ مار کر اسے سیل کردیا۔محکمہ صحت کے مطابق راج شیکھر کے پاس کوئی تسلیم شدہ طبی ڈگری نہ ہونے کے باوجود مبینہ طور پر طبی پریکٹس کیے جانے کی اطلاع ملی تھی۔ اطلاع کے بعد 28 ستمبر کو دوپہر 2 بج کر 40 منٹ پر محکمہ صحت کے افسران نے کلینک پر اچانک کارروائی کی اور کلینک کو سیل کردیا۔یہ کارروائی ایک اہم سوال بھی کھڑا کرتی ہے کہ بغیر طبی اہلیت کے لوگوں کی صحت سے کھیلنے والوں کے خلاف نگرانی کا نظام مزید سخت کیوں نہ ہو؟ کیا صرف کلینک سیل کرنا کافی ہے؟ اور دیہی علاقوں میں اس طرح کی غیر مجاز طبی سرگرمیوں پر مستقل نظر کیسے رکھی جائے؟کارروائی کے دوران ضلع کے پی ایم ای کے نوڈل افسر ڈاکٹر دلیپ ڈونگرے، اوراد تعلقہ صحت افسر ڈاکٹر انیل کمار، کے پی ایم ای امور کے نگران مہیشور ریڈی اور گروپ ڈی ملازم بل بھیم موجود تھے۔بیدر کے سرکاری اسپتال کے اطراف بھی تحقیقات کی ضرورت؟ اسی کے ساتھ بیدر کے سرکاری اسپتال کے اطراف مبینہ طور پر مریضوں اور ان کے رشتہ داروں سے رابطہ کرنے والے افراد کی سرگرمیوں کی بھی تحقیقات کی ضرورت ہے۔کیا سرکاری اسپتال میں علاج کے لیے آنے والے ایسے مریض، جنہیں کسی وجہ سے وہاں علاج نہیں مل پاتا یا مزید علاج کی ضرورت ہوتی ہے، انہیں بیدر کے نجی اسپتالوں کے علاوہ حیدرآباد، ظہیرآباد، سنگاریڈی یا بیدر سے باہر کے دیگر اسپتالوں میں منتقل کرنے کے لیے کچھ افراد اسپتال کے اطراف موجود رہتے ہیں؟ کیا ایسے افراد مریضوں اور ان کے رشتہ داروں کا انتظار کرتے ہیں اور انہیں مخصوص اسپتالوں کی طرف جانے کا مشورہ دیتے ہیں؟ اگر ایسی شکایات یا اطلاعات موجود ہیں تو اس پورے معاملے کی بھی محکمہ صحت اور متعلقہ حکام کی جانب سے غیر جانب دارانہ تحقیقات کیوں نہ کی جائیں؟ آخر سوال یہ ہے کہ سرکاری اسپتال میں علاج کے لیے آنے والے غریب اور عام مریضوں کو کسی بھی قسم کے دباؤ، لالچ یا غیر ضروری طور پر دوسرے اسپتالوں، خصوصاً بیدر سے باہر منتقل کیے جانے سے کیسے محفوظ رکھا جائے؟ جعلی طبی پریکٹس کے خلاف کارروائی کے ساتھ ساتھ مریضوں کو مبینہ طور پر بیدر سے باہر یا دوسرے اسپتالوں کی طرف لے جانے والی سرگرمیوں کی بھی مکمل جانچ ہونی چاہیے، تاکہ حقیقت سامنے آسکے اور مریضوں کے مفاد کا تحفظ یقینی بنایا جاسکے۔







0 تبصرے