آمدنی سے زائد اثاثے رکھنے کے الزام میں ریٹائرڈ زرعی افسر کے ٹھکانوں پر لوک آیوکتہ کا چھاپہ
بیدر 23 ستمبر (نامہ نگار)آمدنی سے زائد اثاثے جمع کرنے کے الزام میں ریٹائرڈ زرعی افسر مانیک راؤ شیریکار کے بیدر، ہمناآباد اور چٹگپہ تعلقہ کے متنگی گاؤں میں واقع مختلف ٹھکانوں پر لوک آیوکتہ کے افسران نے منگل کی صبح بیک وقت چھاپہ مار کارروائی کرتے ہوئے تلاشی اور دستاویزات کی جانچ شروع کی۔موصولہ شکایت کی بنیاد پر کی گئی اس کارروائی کی نگرانی لوک آیوکتہ کے ایس پی سدّھی راجو کر رہے ہیں، جبکہ بیدر ڈی وائی ایس پی ہنومنت رائے کی قیادت میں لوک آیوکتہ کی ٹیم مختلف مقامات پر تلاشی لے رہی ہے۔لوک آیوکتہ کے افسران بیدر شہر کی حق کالونی میں واقع رہائش گاہ، ہمناآباد کی ٹیچرس کالونی میں موجود مکان اور چٹگپہ تعلقہ کے متنگی گاؤں میں واقع باغ اور فارم ہاؤس میں موجود دستاویزات، جائیداد اور دیگر اثاثوں سے متعلق ریکارڈ کی باریک بینی سے جانچ کر رہے ہیں۔ذرائع کے مطابق مانیک راؤ شیریکار گزشتہ ماہ ہی محکمۂ زراعت سے ریٹائر ہوئے ہیں۔ ہمناآباد میں واقع ان کا مکان کرائے پر دیا گیا ہے، جبکہ وہ فی الحال بیدر کی حق کالونی میں واقع اپنی رہائش گاہ میں مقیم ہیں۔بتایا گیا ہے کہ متنگی گاؤں میں واقع ان کے باغ میں تقریباً 2,000 باغبانی کے پودے لگائے گئے ہیں۔ لوک آیوکتہ کے افسران اس پہلو کی بھی جانچ کر رہے ہیں کہ آیا محکمۂ زراعت کی مختلف اسکیموں کے تحت فراہم کی جانے والی باغبانی سے متعلق سہولیات اور سامان کا وہاں استعمال کیا گیا ہے یا نہیں۔ابتدائی طور پر سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق مانیک راؤ شیریکار سے متعلق تقریباً 15 لاکھ روپے مالیت کے 6 پلاٹ، تقریباً 2 کروڑ روپے مالیت کے 3 مکانات، تقریباً 60 لاکھ روپے مالیت کے سونے کے زیورات اور متنگی کے فارم ہاؤس میں تقریباً 26 لاکھ روپے مالیت کے اثاثوں کا پتہ چلنے کی بات سامنے آئی ہے۔
بیدر کی حق کالونی میں واقع رہائش گاہ پر دستاویزات اور دیگر ریکارڈ کی جانچ کا سلسلہ جاری ہے۔ لوک آیوکتہ کی کارروائی مکمل ہونے کے بعد جائیداد اور دیگر اثاثوں سے متعلق مزید تفصیلات سامنے آنے کی توقع ہے۔







0 تبصرے