آوارہ کتوں کا بڑھتا خطرہ، دو کمسن بھائیوں پر حملہ، انتظامیہ کی کارکردگی پر سوال
بیدر7 اکتوبر( محمد علیم الدین )بیدر شہر کے ناودگیری علاقے میں گھر کے سامنے کھیل رہے دو کمسن بھائیوں پر آوارہ کتے کے حملے نے شہر میں آوارہ کتوں کے بڑھتے ہوئے مسئلے اور شہری انتظامیہ کی کارکردگی پر ایک بار پھر سوال کھڑے کردیئے ہیں۔ پیر کی صبح پیش آئے اس واقعے میں 6 سالہ شرت اور 12 سالہ سائی ناتھ شدید زخمی ہوگئے۔معلومات کے مطابق دونوں بھائی گھر کے سامنے کھیل رہے تھے کہ اچانک ایک آوارہ کتے نے ان پر حملہ کردیا۔ کتے نے دونوں بچوں کو دوڑاتے ہوئے کاٹ لیا۔ حملے میں 6 سالہ شرت کے ناک، گال، ہاتھ اور ٹانگ سمیت جسم کے مختلف حصوں پر شدید زخم آئے، جبکہ سائی ناتھ بھی کتے کے کاٹنے سے زخمی ہوا۔دونوں زخمی بچوں کو فوری طور پر بیدر کے بریمز اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔کمسن بچوں پر آوارہ کتے کے حملے کے بعد شہریوں میں شدید تشویش پائی جارہی ہے۔ اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ شہر میں آوارہ کتوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے، لیکن بیدر ضلعی انتظامیہ اور میونسپل کارپوریشن کی جانب سے اس سنگین مسئلے کے مستقل حل کے لیے مؤثر اقدامات نظر نہیں آرہے ہیں۔شہریوں کا سوال ہے کہ آخر انتظامیہ کسی بڑے حادثے کا انتظار کیوں کر رہی ہے؟ اگر رہائشی علاقوں میں آوارہ کتوں کی موجودگی بچوں اور عام شہریوں کے لیے خطرہ بن رہی ہے تو متعلقہ حکام کی ذمہ داری ہے کہ فوری طور پر مؤثر کارروائی کریں۔زخمی بچوں کے اہلِ خانہ نے ضلعی انتظامیہ اور میونسپل کارپوریشن سے مطالبہ کیا ہے کہ آوارہ کتوں کے مسئلے کو محض وقتی کارروائی تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ مستقل اور مؤثر منصوبہ بندی کے ساتھ اس پر قابو پایا جائے۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ رہائشی علاقوں میں آوارہ کتوں کی روک تھام کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں، تاکہ مستقبل میں کسی اور بچے کو ایسے حملے کا شکار نہ ہونا پڑے۔یہ واقعہ بیدر شہر کے ذمہ دار حکام کے لیے ایک سنجیدہ وارننگ ہے کہ شہریوں، بالخصوص بچوں کی حفاظت کے لیے اب محض دعووں کے بجائے عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔







0 تبصرے