بہمنی فاؤنڈیشن قلعہ گلبرگہ کے زیرِ اہتمام جشن صدر اعظم سر مرزا محمد اسماعیل کا کامیاب انعقاد
(عظیم تاریخی شخصیات کے کارناموں سے نئی نسل کو روشناس کرانا وقت کی اہم ضرورت ہے.
قاضی رضوان الرحمن صدیقی مشہود)
سر مرزا محمد اسماعیل کی خدمات، دور اندیشی اور تاریخی ورثے کے تحفظ کے لیے ان کی کوششیں قابلِ تحسین ہیں. مقررین کا اظہارِ خیال
گلبرگہ25 اکتوبر( ناز میڈیا )بہمنی فاؤنڈیشن قلعہ گلبرگہ کے زیرِ اہتمام عظیم مدبر، ماہرِ انتظام اور معمارِ ترقی سر مرزا محمد اسماعیل کے یومِ پیدائش کے موقع پر ایک یادگاری جلسے بعنوان جشن صدر اعظم سر مرزا محمد اسماعیل کا کامیاب انعقاد عمل میں آیا۔ مجیب علی خان میموریل کلچرل میوزیم ہال میں منعقدہ اس جلسے میں اہلِ علم و ادب، دانشوروں، سماجی کارکنوں اور علم دوست شخصیات نے شرکت کی۔ مقررین نے سر مرزا محمد اسماعیل کی گراں قدر خدمات، غیر معمولی انتظامی صلاحیتوں، دور اندیشی اور ترقیاتی کارناموں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے نئی نسل کو ان کی شخصیت اور خدمات سے روشناس کرانے کی ضرورت پر زور دیا۔
جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بہمنی فاؤنڈیشن قلعہ گلبرگہ کے بانی و صدر قاضی رضوان الرحمن صدیقی مشہود نے کہا کہ تاریخ کی عظیم شخصیات کو یاد کرنا، ان کے کارناموں کو نئی نسل کے سامنے پیش کرنا اور ان کی زندگی کے روشن پہلوؤں سے نوجوانوں کو آگاہ کرنا وقت کا اہم ترین تقاضا ہے۔ قوموں کی ترقی اور فکری بالیدگی کے لیے ضروری ہے کہ نئی نسل اپنے اسلاف کی خدمات، ان کے طرزِ فکر اور ان کی کامیابیوں سے واقف ہو۔
قاضی رضوان الرحمن صدیقی نے مزید کہا کہ بہمنی فاؤنڈیشن قلعہ گلبرگہ نے اس مقصد کے تحت یہ عزم کیا ہے کہ عظیم تاریخی شخصیات کے حالاتِ زندگی اور کارناموں کو اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کی سطح پر متعارف کروایا جائے، تاکہ نوجوان نسل میں تاریخی شعور بیدار ہو اور وہ اپنے ماضی کے روشن نقوش سے رہنمائی حاصل کرسکے۔
اس موقع پر انہوں نے قلعہ گلبرگہ کے حوالے سے درپیش قانونی دشواریوں اور اب تک کی صورتِ حال کا بھی تفصیلی جائزہ پیش کیا اور سامعین کو اس سلسلے میں جاری کوششوں سے آگاہ کیا۔
جناب محمد جعفر قاسم انصاری، اسسٹنٹ ڈائریکٹر، ڈی آئی سی، ضلع گلبرگہ، نے اپنے خصوصی خطاب میں سر مرزا محمد اسماعیل کی گلبرگہ آمد اور الند شریف میں ان کے دورِ کار کے دوران انجام دیے گئے ترقیاتی کاموں کا تفصیلی ذکر کرتے ہوئے انہیں زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے اہم دستاویزات پیش کرتے ہوئے بتایا کہ بحیثیتِ وزیراعظم سر مرزا محمد اسماعیل نے قلعہ ہشام کے سلسلے میں ایک یادگار کارنامہ انجام دیا تھا۔ انہوں نے اس ضمن میں ایک تاریخی مکتوب تحریر کیا، جو آنے والی نسلوں کے لیے ایک اہم تاریخی دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے۔ جناب محمد جعفر قاسم انصاری نے اس مکتوب کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ سر مرزا محمد اسماعیل کی یہ کاوش ان کی دور اندیشی اور تاریخی ورثے کے تحفظ سے متعلق ان کے شعور کی عکاس ہے۔ ان کا یہ اقدام آنے والی نسلوں کے لیے ایک گراں قدر اثاثہ اور قابلِ تحسین تاریخی خدمت ہے۔
بہمنی فاؤنڈیشن قلعہ گلبرگہ کے معتمدِ عمومی علاء الدین محمد اکبر نے اپنے خطاب میں سر مرزا محمد اسماعیل کے حالاتِ زندگی، ان کی انتظامی بصیرت اور مختلف شعبہ ہائے زندگی میں انجام دی گئی خدمات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ ایسی عظیم شخصیات کی زندگی اور خدمات کو نئی نسل تک پہنچانا ہماری علمی، ادبی اور تاریخی ذمہ داری ہے۔ سر مرزا محمد اسماعیل کی شخصیت، ان کی انتظامی صلاحیتیں اور ان کے ترقیاتی تصورات آج بھی ہمارے لیے رہنمائی کا مؤثر ذریعہ بن سکتے ہیں۔
محترمہ زیبا تبسم، صدر آل انڈیا اردو ویلفیئر ٹرسٹ اور سیکریٹری شعبۂ خواتین، مجلسِ تعمیرِ ملت گلبرگہ، نے اپنے خطاب میں سر مرزا محمد اسماعیل کے دور میں انجام دیے گئے ترقیاتی کاموں، ان کی دور اندیشی اور انتظامی صلاحیتوں کا تفصیلی جائزہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی خدمات کا مطالعہ نئی نسل کو بہتر انتظام، منصوبہ بندی اور عوامی فلاح کے تقاضوں کو سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے۔جناب غایب باشاہ پیٹل نے کنڑا زبان میں خطاب کرتے ہوئے سر مرزا محمد اسماعیل کی شخصیت اور خدمات کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے ان کے کارناموں کو یاد رکھنے اور عوام کے سامنے پیش کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ایسے پروگرام نئی نسل کی فکری تربیت کے لیے ضروری ہیں۔
جناب ایاز الدین پیٹل آرٹسٹ نے اسطرح کے پروگرام کے انعقاد پر زور دیا اور کہا کہ مجھ خوشی محسوس ہورہی کے بہمنی فاؤنڈیشن قلعہ گلبرگہ نے یہ خوبصورت محفل سجائی ہے جس کے لیے میں بہمنی فاؤنڈیشن قلعہ گلبرگہ کے تمام اراکینکو مبارکباد پیش کرتا ہوں ۔
جناب انجینئر عارف مرزا نے اپنے خطاب میں کہا کہ تاریخی شخصیات کو یاد رکھنا اور ان کے کارناموں سے نئی نسل کو آگاہ کرنا نہایت ضروری ہے۔ انہوں نے بہمنی فاؤنڈیشن کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کے علمی و تاریخی پروگرام نوجوانوں کی فکری تربیت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ایسے اجتماعات کے ذریعے نئی نسل کو اپنے تاریخی ورثے، عظیم شخصیات کی خدمات اور ان کے روشن کارناموں سے واقف کروایا جاسکتا ہے۔
نامور سینئر صحافی سید عزیز اللہ سرمست نے مقررین کی علمی و فکری کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسے پروگراموں میں باصلاحیت افراد کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا موقع ملنا چاہیے۔انہوں نے بہمنی فاؤنڈیشن کے اس اقدام کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں محض تاریخ دہرانے والے نہیں، بلکہ تاریخ لکھنے والے بننے کی کوشش کرنی چاہیے۔سید عزیز اللہ سرمست صاحب نے مزید کہا کہ ایسے علمی و تاریخی اجلاس مستقل بنیادوں پر منعقد ہوتے رہنے چاہییں، کیونکہ ان کے ذریعے معاشرے میں تاریخی شعور، علمی ذوق اور مثبت فکری رجحانات کو فروغ حاصل ہوتا ہے۔ انہوں نے ان پروگراموں میں شرکت اور منتظمین کی حوصلہ افزائی کو بھی اہم قرار دیا۔
جلسے کا آغاز مولوی مظہر احمد گرمٹکلی کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جب کہ مولوی خواجہ گیسوداز نے نعتِ رسولِ مقبول ﷺ پیش کرنے کی سعادت حاصل کی۔ ممتاز شاعر و ادیب مبین احمد زخم نے نظامت کے فرائض خوش اسلوبی سے انجام دیے۔
جناب سید نذیر الدین متولی نائب صدر تعمیر ملت ضلع گلبرگہ، جناب سید عزیز اللہ سرمست، معروف آرٹسٹ ایاز الدین پیٹل، بحیثت مہمانان خصوصی شرکت فرمائی، جبکہ محمد اسماعیل کوئین کلکٹر، جناب سراج الدین وجہہ، محمد حسیب نعمان، محمد معظم علی میڈیا سیکٹریری تعمیر ملت، افنان شہریار، شیخ جنید، انجنیر وسیم عارف، کے علاوہ علم دوست شخصیت نے شرکت فرما کر اجلاس کو بے حد کامیاب بنایا ۔جلسے کے اختتام پر مجیب علی خان، صدر مجیب علی خان کلچرل فورم، نے اظہارِ تشکر ادا کرتے ہوئے تمام مقررین، مہمانوں اور شرکائے اجلاس کا شکریہ ادا کیا۔







0 تبصرے