ششیِل نموسی ایک شریف اور عوام دوست سیاست داں ہیں، اساتذہ دوبارہ کامیاب بنائیں: بنڈےپا کاشیَم پور
بیدر، 18 اکتوبر ( نامہ نگار )سابق وزیر اور جنتا دل (سیکولر) کے سینئر رہنما بنڈےپا کاشیَم پور نے اساتذہ سے اپیل کی کہ وہ شمال مشرقی کرناٹک اساتذہ حلقہ قانون ساز کونسل کے این ڈی اے امیدوار ششیِل نموسی کو دوبارہ کامیاب بنانے کے لیے متحد ہوکر کام کریں۔ انہوں نے کہا کہ ششیِل نموسی چار مرتبہ کامیابی حاصل کرچکے ہیں اور انہوں نے عوام کے لیے کئی کام انجام دیے ہیں۔بیدر شہر کے پریس بھون میں اتوار کو منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بنڈےپا کاشیَم پور نے کہا کہ ششیِل نموسی ایک شریف اور بااخلاق سیاست داں ہیں اور ان کی خدمات سے اساتذہ اچھی طرح واقف ہیں۔ انہوں نے تمام اساتذہ سے اپیل کی کہ وہ بھاری اکثریت سے این ڈی اے امیدوار کو کامیاب بنائیں۔انہوں نے بتایا کہ شمال مشرقی کرناٹک اساتذہ حلقہ کے این ڈی اے امیدواروں کے حق میں انتخابی مہم جاری ہے۔ بیدر ضلع میں سات ہزار سے زائد ووٹ ہیں اور دسہرہ کی تعطیلات کے دوران این ڈی اے کے رہنما ووٹروں کے گھروں تک پہنچ کر ان سے رابطہ قائم کررہے ہیں اور ووٹ دینے کی اپیل کررہے ہیں۔ریاستی حکومت نے تعلیمی شعبے کو نظرانداز کیا-بنڈےپا کاشیَم پور نے ریاست کی کانگریس حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ حکومت ضمانتی اسکیموں میں مصروف ہوکر محکمۂ تعلیم کو نظرانداز کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی شعبے کو ترجیح دینے کی ضرورت ہے، لیکن اساتذہ کی بھرتی سمیت کئی اہم کام تعطل کا شکار ہیں۔ ان کے مطابق حکومت کو تعلیم، کسانوں کے مسائل اور خواتین کو بااختیار بنانے پر بھی توجہ دینی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ جب ایچ ڈی کمار سوامی وزیر اعلیٰ تھے، اس وقت ایک ہی دن میں تقریباً 500 ہائی اسکول شروع کیے گئے تھے، جبکہ گزشتہ حکومت کے دوران تقریباً ایک ہزار انگریزی میڈیم اسکول قائم کیے گئے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ موجودہ حکومت نئے کام انجام دینے کے بجائے موجودہ مسائل کو حل کرنے میں بھی ناکام ثابت ہورہی ہے۔کسانوں کے قرض معاف کرنے کا حکومت کو مشورہ بنڈےپا کاشیَم پور نے دعویٰ کیا کہ ریاست میں قانون ساز کونسل کی چار نشستوں پر ہونے والے انتخابات میں کانگریس کو شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے شمالی کرناٹک کے تقریباً 210 تعلقہ جات کو خشک سالی سے متاثرہ قرار دیے جانے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کسان شدید مشکلات سے دوچار ہیں اور حکومت کو ان کی مدد کے لیے مؤثر اقدامات کرنے چاہئیں۔انہوں نے الزام لگایا کہ ریاستی حکومت ہر سال تقریباً ایک سے ڈیڑھ لاکھ کروڑ روپے قرض لے کر حکومت چلارہی ہے۔ ان کا مشورہ تھا کہ کسانوں کی مدد کے لیے بھی قرض حاصل کرکے رقم ان کی فلاح و بہبود پر خرچ کی جائے۔ انہوں نے سابق وزرائے اعلیٰ بی ایس یڈی یورپا اور ایچ ڈی کمار سوامی کی حکومتوں کی جانب سے کسانوں کے قرض معاف کرنے کے اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے موجودہ حکومت سے بھی اسی طرح کے اقدامات کرنے کی اپیل کی۔آخر میں بنڈےپا کاشیَم پور نے اساتذہ سے اپیل کی کہ وہ اپنے ووٹ کا استعمال کرتے ہوئے حکومت کو عوامی مسائل کی جانب توجہ دینے کا پیغام دیں اور این ڈی اے امیدواروں کی کامیابی کے لیے تعاون کریں۔ انہوں نے کہا کہ اساتذہ کی بڑی تعداد کسانوں کے خاندانوں سے تعلق رکھتی ہے، اس لیے انہیں کسانوں اور تعلیمی شعبے کے مسائل کو پیش نظر رکھتے ہوئے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کرنا چاہیے۔







0 تبصرے