بی ایس ایس کے شوگر فیکٹری کو نیلام نہ کیا جائے، لیز پر دے کر دوبارہ شروع کیا جائے: شکو نتلا کے. بیلدالے
بیدر4 ستمبر ( نامہ نگار )بیدر کوآپریٹو شوگر فیکٹری (BSSK) کو نیلام کرنے کے بجائے نجی ادارے کو لیز پر دے کر دوبارہ فعال کرنے اور کسانوں و مزدوروں کے مفادات کا تحفظ کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ڈی سی سی بینک بیدر کی ڈائریکٹر شریمتی شکنتلا کے. بیلدالے نے ڈی سی سی بینک کے صدر شری امر کمار کھنڈرے کو ایک مکتوب روانہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمنآباد تعلقہ کے ہلی کھیڑ (بی) کے قریب واقع بیدر کوآپریٹو شوگر فیکٹری ضلع کے کسانوں کے لیے انتہائی اہم ہے۔ 1969 میں قائم ہونے والی یہ فیکٹری ضلع کی قدیم کوآپریٹو شوگر فیکٹریوں میں شمار ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ فیکٹری پر ڈی سی سی بینک کا قرض واجب الادا ہے اور گزشتہ چند برسوں سے قرض کی وصولی نہ ہونے کے باعث بینک کے مالی معاملات پر بھی منفی اثر پڑا ہے۔ تاہم قرض کی وصولی کے ساتھ ساتھ فیکٹری کو دوبارہ شروع کرنا بھی انتہائی ضروری ہے۔شکنتلا بیلدالے نے کہا کہ BSSK کو کسی بھی صورت نیلام نہ کیا جائے بلکہ نجی ادارے کو لیز پر دے کر اس کی بازآبادکاری کی جائے۔ یہی ضلع کے کسانوں اور عوام کا مطالبہ ہے اور وہ بھی اس مطالبے کی مکمل حمایت کرتی ہیں۔مکتوب میں کہا گیا کہ حکومت کی سطح پر 18 دسمبر 2024 کو منعقدہ اجلاس میں فیکٹری کو نجی ادارے کے حوالے کرنے سے متعلق فیصلہ کیا جا چکا ہے۔ حکومت LR0T کی بنیاد پر فیکٹری کو نجی ادارے کو لیز پر دے کر دوبارہ فعال کرنے کی سمت میں آگے بڑھ رہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ 27 اگست 2026 کو حکومت کے محکمہ تجارت کے سکریٹری کی جانب سے ڈی سی سی بینک کے سی ای او کو بھیجے گئے خط میں واضح کیا گیا ہے کہ BSSK فیکٹری کو LR0T کی بنیاد پر نجی ادارے کو لیز پر دے کر دوبارہ شروع کرنے کا عمل حکومت کی سطح پر آخری مرحلے میں ہے۔شکنتلا بیلدالے نے ڈی سی سی بینک کے صدر امر کمار کھنڈرے سے اپیل کی کہ وہ حکومت کے اس اقدام میں تعاون کریں اور اپنے بھائی و ضلع انچارج وزیر ایشور کھنڈرے کے ساتھ مل کر حکومت کی سطح پر بات چیت کرتے ہوئے BSSK فیکٹری کو جلد از جلد نجی ادارے کو لیز پر دینے کا عمل مکمل کرائیں۔انہوں نے کہا کہ فیکٹری کو لیز پر دے کر دوبارہ شروع کرنے سے نہ صرف کسانوں اور مزدوروں کو فائدہ ہوگا بلکہ بینک کے بقایا قرض کی وصولی بھی ممکن ہو سکے گی، جس سے تمام فریقوں کے مفادات کا تحفظ ہوگا۔انہوں نے کہا کہ فیکٹری کی نیلامی کی مخالفت میں کسانوں میں شدید ناراضگی پائی جاتی ہے۔ ایسے وقت میں کسان دوست رویہ رکھنے والے ڈی سی سی بینک کے انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ کسانوں کے مفاد کو ترجیح دے۔شکنتلا بیلدالے نے واضح کیا کہ اگر فیکٹری کو دوبارہ نیلام کرنے کی کوشش کی گئی تو کسانوں اور مزدوروں کے مفاد میں اس کی سخت مخالفت کی جائے گی اور کسی بھی صورت نیلامی قبول نہیں کی جائے گی۔ ضرورت پڑنے پر وہ کسانوں کے مفاد میں ڈی سی سی بینک کی ڈائریکٹر کی حیثیت سے اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے سے بھی گریز نہیں کریں گی۔







0 تبصرے